اسلام علیکم!
امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔
مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ، قرآن پاک کی تلاوت کرنے والے کے پاس کرسی پر بیٹھنے والے کےلئے شریعت میں کیا حکم ہے؟
آج کل آپ کو پتہ ہے کہ مسجد میں کرسیاں ہوتی ہیں، اور لوگ ان پر بیٹھتے ہیں، اور قرآن پاک پڑنے والے نیچے بیٹھ کر پڑ رہے ہوتے ہیں، اس بات سے بعض لوگ کرسی پر بیٹھنے والوں کو ڈانٹ دیتے ہیں.
میں نے ایک جگہ پڑا تھا کہ، قرآن پاک پڑنے والے کے پاس کرسی پر بیٹھنے والے کی مثال پاس کھڑے ہونے والے کی طرح ہے.
اب آپ ہی صحیح مسئلہ بتا کر ہماری رہنمائی فرمائیں!
آپ کا شکریہ!
کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کے بالکل قریب زمین پر بیٹھ کر، قرآن کریم کی تلاوت کرنے میں چونکہ بے ادبی کا پہلو بالکل واضح ہے، اس لیے اگر قرآن شریف کی تلاوت کرنے والا شخص پہلے کسی جگہ بیٹھ کر تلاوت کررہا ہو، تو کرسی پر بیٹھنے والے شخص کو اس سے ذرا فاصلہ پر کرسی رکھ کر بیٹھ جانا چاہیئے، اسی طرح اگر کوئی شخص پہلے سے کرسی پر بیٹھا ہوا ہو ، تو قرآن کریم تلاوت کرنے والے شخص کو بھی چاہیئے کہ، قریب آ کر بالکل اس کے پہلو میں بیٹھنے کے بجائے ذرا فاصلہ پر بیٹھ جائے، باقی ان دونوں کے درمیان مطلوبہ فاصلے کی شرعا کوئی تحدید نہیں، بلکہ ایک ادب پر مشتمل پہلو ہے، جو کوئی بھی بندہ موقع محل اور نوعیت دیکھ کر اس کا فیصلہ کرسکتاہے۔
کما فی الدرالمختار:(ولها آداب) ترکه لا یوجب إساءة ولا عتابا کترك سنة الزوائد، لکن فعله أفضل اھ(١٧٥/٢)
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0