السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ امید کرتا ہوں کہ آپ بخیر و عافیت ہونگے ایک مسئلہ معلوم کرنا تھا، ایک "آیور ویدک" کمپنی ہے جسمیں دوائیاں ،کھیتی کا سامان ،کھانے کا سامان، کریانہ اور ضروریات کی دوسری چیزیں بھی ہیں اور کمپنی کے مالک ایک ڈاکٹر ہیں اور انکا میشن یہ ہے کہ بیمار انسان اچھا ہو اور اچھا انسان بیمار نہ ہو ،اور کمپنی کے مالک کا کہنا ہے کہ جو ہمارے پروڈکٹ استعمال کرے اور دوسروں کو اس بارے میں بتائے ، اور جو کمپنی میں اور لوگوں کو جوڑے تو جو سامان خریدے گا اسکو کمپنی کی طرف سے 30% ڈسکاؤنٹ ملے گا ، اور اگر ایک شخص کمپنی میں جڑا اور اسکے نیچے اور لوگ جڑے ہوں ، اگر اس شخص کے نیچے والے نے کمپنی سے کوئی سامان خریدا تو کمپنی کی طرف سے اوپر تک کیش بیک ملتا ہے اور کمپنی میں جڑنے کے لۓ کوئی فیس بھی نہیں ہے ، جو شخص جتنی محنت کرے گا اسے اتنا پروفٹ ملے گا ، اور کمپنی کے سامان خریدنے پر پوائنٹ ملتے ہیں ، اگر آپ کی محنت سے آپ پوائنٹ کی اس حد تک پہنچ گئے جو کمپنی نے متعین کی ہے ، تو کمپنی کی طرف سے پیمینٹ ملتی ہے ، پروفٹ اور پوائنٹ آپ کی محنت پر آپ کو ملتے ہیں ، کمپنی کا سامان سب "آیورویدک "ہے ، ہم نے گھر میں استعمال کیا ہے فائدہ مند دوائیاں ہیں
تو کمپنی کی طرف سے جو پروفٹ اور پیمنٹ ملتی ہے ، وہ حلال ہے یا حرام ہے ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمایئے.
سوال میں مذکور کمپنی سمیت متعدد کمپنیاں مارکیٹ میں موجود ہیں، جو چند مخصوص اشیاء کو مارکیٹ سے مہینگے دام فروخت کرتی ہیں، اور ممبربننے پر ڈسکاونٹ دینے اور مزید ممبران کو اس چین کا حصہ بنانے پر کمیشن دینے کا آفر کرتی ہے۔
اس طرح کمپنیوں کا اصل مقصد کاروبار کرنا نہیں ہوتاہے، بلکہ کمپنی کو اپنی تشہیر کے لۓ زیادہ سے زیادہ ممبرز اور سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لۓ کمپنی لوگوں سے مخصوص رقم لیکر اس چین کا حصہ بنالیتی ہے ،اور مزید لوگوں کو شامل کرنے کے لۓ انہیں ایک لنک دیاجاتاہے، پھر اگرکوئی شخص اس پرانے ممبرکے توسط سے اس چین کا حصہ بنتاہے، تو اس کی رقم سے پرانے ممبر کو کمیشن دیاجاتاہے، اور یہ سلسلہ کمیشن درکمیشن چلتا رہتاہے ، لیکن اگر کوئی ممبر مزید لوگوں کو شامل کرنے میں ناکام رہے، تو اس کو کمیشن کی صورت میں منافع بھی نہیں ملتا، جو کہ غرر اور قمارکی ایک صورت ہے۔
اسی طرح اس بلاک چین میں کمپنی اور ممبر کے درمیان ہونے والے معاملے کی حیثیت اور نوعیت کی کوئی وضاحت بھی نہیں ، بلکہ ایک مجہول عقد کے نتیجے میں اسے نفع مل رہا ہوتاہےاوراس کمپنی میں بالواسطہ ممبرز بننے والوں کے عمل سے ماقبل کے ممبرکو ،بغیر کسی محنت وعمل کے منافع بھی مل رہاہوتا ہے، جو شرعاًجائز نہیں۔
قال اللہ سبحانہ و تعالی :﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْأَنْصَابُ وَ الْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾.(المائدة:90)۔
و فی أحکام القرآن للجصاص: و لا خلاف بین أہل العلم في تحریم القمار ، و أن المخاطرۃ من القمار ، قال ابن عباس : إن المخاطرۃ قمار ، و إن أہل الجاہلیۃ کانوا یخاطرون علی المال و الزوجۃ ، و قد کان ذلک مباحاً إلی أن ورد تحریمہ۔( ۱/۳۹۸)۔
نہی رسول اللّٰہ صلى الله عليه و سلم عن بَیْعِ الْغَرَرِ (مسلم، ابوداؤد: 6۷۳۳)۔
و فی بدائع الصنائع فصل في شروط جواز السابق : و لو کان الخطر من الجانبین جمیعًا و لم یدخلا فیہ محللاً لا یجوز ؛ لأنہ في معنی القمار ، نحو أن یقول أحدہما لصاحبہ : إن سبقتني فلک عليّ کذا ، و إن سبقتک فلي علیک کذا ، فقبل الآخر"( ۸/۳۵۰ دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔
و فی الشامیۃ : لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً و ينقص أخرى ، و سمي القمار قماراً ؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ، و يجوز أن يستفيد مال صاحبه و هو حرام بالنص۔(6/403)۔