السلام علیکم ، میں جدہ میں رہتا ہوں ، مجھے اس مہینے حجِ افراد کرنا ہے ، لیکن میں نے شوال کے مہینے میں عمرہ کیا ہے، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ مجھے دم دینا ہو گا میرے عمرے کی وجہ سے؟مجھے اس بات کا علم بھی نہیں تھا کہ شوال سے ذی الحج کے مہینے میں عمرہ کرنے کی اجازت نہیں ہے، برائے مہربانی فوری جواب دیں!
واضح ہوکہ اہل ِمکہ اور حل والوں ( میقات کے اندر رہنے والے ) کے لیے صرف حج افراد کی اجازت ہے، حجِ تمتع یا حجِ قران کرنا شرعاً جائز نہیں، سائل چونکہ جدہ (حل) کا رہائشی ہے اور شوال کے مہینے میں عمرہ بھی ادا کر چکا ہے، اس لیے اسی سال اگرسائل حج کرے گا تو وہ حجِ تمتع کہلائے گا، اور حج ِتمتع کرنے کی وجہ سے سائل پر ایک دم لازم ہوگا۔
کما فی الدر المختار و رد المحتار: (و المكي و من في حكمه يفرد فقط) و لو قرن أو تمتع جاز و أساء، و عليه دم جبر، (و فی الرد) (قوله و من في حكمه) أي من أهل داخل المواقيت۔اھ (2/ 539)۔