کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام درجِ ذیل مسئلہ میں کے بارے کہ:
۱۔ میں تبلیغی سفر میں ہوتا ہوں ایک ماہ یا ۲۰ دن کی تشکیل ایک گاؤں یا ایک شہر میں ہوتی ہے تو آپ فرما ئیں کہ ہم اس شہر یا گاؤں میں مسافر ہیں یا مقیم ؟
۲۔ اکثر علماء سے سنا ہے کہ آپ کی جماعت پیچھے رائے ونڈ والوں کے ما تحت ہو تی ہے، یعنی وہ آپ کو جب بلا لیں تو آپ واپس جا سکتے ہیں ، اس لۓ آپ مسافر ہیں ، لیکن کبھی رائے ونڈ والوں نے جماعت کو واپس نہیں کیا ہے تو اس کا حکم کیا ہے ؟
۳۔ دوسرے علماء سے سنا ہے کہ جب آپ ایک شہر یا ایک گاؤں میں ۱۵ دن سے زیادہ تشکیل میں ہوں تو پھر آپ مسافر نہیں مقیم ہیں ، اس وجہ سے آپ تسلی بخش جواب دیں۔
۴۔ نیز یہ بھی بتائیں کہ مثلاً کراچی ایک بڑا شہر ہے تو پورے شہر میں میں تشکیل نہیں ہوتی، بلکہ ایک مخصوص علاقہ میں ہوتی ہے تو کیا ہم پور ے شہر میں مسافر ہیں یا نہیں؟یعنی ہمیں تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اگر کراچی کے کسی محلّے میں تشکیل ہونے کے بعد وہاں ہم مسافر ہیں تو پورے کراچی میں ہی مسافر ہوں گے، لیکن سوال یہ ہے اگر اس محلّے میں مقیم ہوگئے تو کراچی کے باقی حصوں میں مقیم ہوں گے یا نہیں؟
۵۔ نیز موضعِ اقامت کی حد بھی تحریر فرمائیں یعنی کسی بستی یا شہر کی حد بندی میں حکومتی حد بندی کا اعتبار ہے یا وہ معتبر ہے جس حد کو وہاں کے رہنے والے لوگ بستی یا شہر سمجھتے ہیں؟
( ۱-۵ ) جب کوئی مسافرچا ہے جماعت ہو یا فرد، کسی جگہ ( شہر یا گاؤں وغیرہ ) میں پندرہ (۱۵) دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت کرے تو وہ جگہ اس کے لۓ وطنِ اقامت کہلائے گی اور وہ مقیم شمار ہوگا اور پوری چار رکعت نماز ادا کرے گا اور وطنِ اقامت کی حد اس کی آبادی ہے، حکومتی یا علاقائی حد بندی نہیں ۔
( ۲-۳ ) ہماری معلومات کے مطابق تبلیغی جماعت کے بزرگوں کی طرف سے جماعتوں کو یہی ہدایت ہوتی ہے کہ وہ اگر اپنے مقامِ تشکیل میں شرعی ضابطہ کے مطابق مقیم بنتے ہوں تو اپنے آپ کو مقیم شمارکریں چار رکعت نماز ادا کریں اور شرعی ضابطہ کے مطابق مسافر بنتے ہوں تو اپنے آپ کو مسافر سمجھیں اور اپنی نمازوں میں قصر کریں۔
( ۴ ) کراچی یا اس جیسے بڑے شہر کے کسی ایک محلہ میں بھی پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت کرنے سے آدمی مقیم بن جاتا ہے اور پورا شہر اس کے لۓ وطنِ اقامت بن جاتا ہے۔
في الهندية: ولا يزال على حكم السفر حتى ينوى الاقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر یو ما أو أكثر كذا في الهداية اھ (۱/۱۳۹)۔
وفى حاشية ابن عابدين: تحت (قوله من خرج من عمارة موضع إقامته) أراد بالعمارة ما يشمل بيوت الأخبية لأن بها عمارة موضعها. (إلی قوله) وأشار إلى أنه يشترط مفارقة ما كان من توابع موضع الإقامة كربض المصر وهو ما حول المدينة من بيوت ومساكن فإنه في حكم المصر اھ (2/ 121)۔
وفى الدر المختار: (من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر اھ (2/ 121)۔
وفيه ايضا: (بموضع) واحد (صالح لها) من مصر أو قرية أو صحراء اھ(2/ 125)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله صالح لها) هذا إن سار ثلاثة أيام وإلا فتصح ولو في المفازة اھ (2/ 125)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4