السلام علیکم
مفتی صاحب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ میرے بڑے بھائی جان نے سعودیہ عرب سے 1995 میں پیسے بھیجے , جن کی زمین خرید کر شوپس بنائیں, جس میں والد صاحب اور میں نے اور تیسرے بھائی صاحب نے کام کیا ،ابھی والد صاحب وفات پاگئے ہیں تو اس زمین اور شوپس میں میرا ،یا میرے دوسرے بہن بھائیوں کا حصہ ہے یا نہیں ؟
سائل نے سوال میں یہ صراحت نہیں کی کہ سائل کے بڑے بھائی نے 1995ء میں والد صاحب کو جو رقم بھیجی تھی وہ کس غرض سے تھی ،اور اس رقم سے زمین خرید کر اس پر دکانیں بنانے کے متعلق سائل کے والد اور بڑے بھائی کے درمیان کوئی بات طے ہوئی تھی یا نہیں ، نیز زمین خریدنے اور اس پر دکانیں بنوانے میں کسی اور شخص کی رقم شامل تھی یا نہیں تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم اگر سائل کے بڑے بھائی نے مذکور رقم مالکانہ طور پر نہ بھیجی ہو بلکہ والد کو وکیل بنا کر اس کے توسط سے مذکور رقم سے اپنے لئے زمین خرید کر اس پر دکانیں بنوائی ہو ں اور اس میں سائل کے والد یا دیگر بھائیوں کی کوئی رقم بھی شامل نہ ہو تو ایسی صورت میں مذکور زمین اور اس پر بنائی جانے والی دکانیں شرعاً سائل کے بڑے بھائی کی ملکیت ہو ں گی ،جس میں سائل یا اس کے دیگر بہن بھائیوں کا شرعاً کوئی حصہ نہ ہو گا ،تا ہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر دوبارہ ای میل کردیں, اس پرغورو فکر کے بعد ان شا ءاللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جا ئے گا ۔
في تنقيح الفتاوى الحامدیۃ :(أَقُولُ) وَ فِي الْفَتَاوَى الْخَيْرِيَّةِ سُئِلَ فِي ابْنٍ كَبِيرٍ ذِي زَوْجَةٍ وَ عِيَالٍ لَهُ كَسْبٌ مُسْتَقِلٌّ حَصَّلَ بِسَبَبِهِ أَمْوَالًا وَ مَاتَ هَلْ هِيَ لِوَالِدِهِ خَاصَّةً أَمْ تُقْسَمُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ أَجَابَ هِيَ لِلِابْنِ تُقْسَمُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ عَلَى فَرَائِضِ اللَّهِ تَعَالَى حَيْثُ كَانَ لَهُ كَسْبٌ مُسْتَقِلّ بنفسہ وَ أَمَّا قَوْلُ عُلَمَائِنَا أَبٌ وَ ابْنٌ يَكْتَسِبَانِ فِي صَنْعَةٍ وَاحِدَةٍ وَ لَمْ يَكُنْ لَهُمَا شَيْءٌ ثُمَّ اجْتَمَعَ لَهُمَا مَالٌ يَكُونُ كُلُّهُ لِلْأَبِ إذَا كَانَ الِابْنُ فِي عِيَالِهِ فَهُوَ مَشْرُوطٌ كَمَا يُعْلَمُ مِنْ عِبَارَاتِهِمْ بِشُرُوطٍ مِنْهَا اتِّحَادُ الصَّنْعَةِ وَ عَدَمُ مَالٍ سَابِقٍ لَهُمَا وَ كَوْنُ الِابْنِ فِي عِيَالِ أَبِيهِ فَإِذَا عُدِمَ وَاحِدٌ مِنْهَا لَا يَكُونُ كَسْبُ الِابْنِ لِلْأَبِ وَ انْظُرْ إلَى مَا عَلَّلُوا بِهِ الْمَسْأَلَةَ مِنْ قَوْلِهِمْ ؛ لِأَنَّ الِابْنَ إذَا كَانَ فِي عِيَالِ الْأَبِ يَكُونُ مُعِينًا لَهُ فِيمَا يَصنعُ فَمَدَارُ الْحُكْمِ عَلَى ثُبُوتِ كَوْنِهِ مُعِينًا لَهُ فِيهِ فَاعْلَمْ ذَلِكَ اهـ .(2/17)-
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0