بینک میں ملازمت کرنا کیسا ہے ؟ اسلامی بینکنگ اور کمرشل ( تجارتی)؟ اور جبکہ اور کوئی ملازمت وغیرہ نہ ہو، گھر، بچے اور بنیادی ضروریات کیسے پوری کریں؟
واضح ہو کہ سودی بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات (جیسے سودی لین دین کا ریکارڈ مرتب کرنا اس پر گواہ بننا یا کیش وغیرہ وصول کرنا) سے نہ ہو تو ایسی ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش ہے ، لہذا سائل کی ملازمت کا تعلق بینک میں اگر براہِ راست سودی لین دین سے نہ ہو تو سائل کیلئے اس ملازمت کو اختیار کرنے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے ، ورنہ سودی لین دین پر مشتمل ملازمت کی صورت میں سائل کو فی الفور اس ملازمت کو چھوڑنے کا عزم کر کے اس طرح کوئی جائز روز گار تلاش کرنا چاہیئے ، جس طرح بے روز گار شخص تلاش کرتا ہے ، تاہم جب تک کوئی جائز ملازمت نہ ملے اس وقت تک بینک کی مذکور ملازمت توبہ واستغفار کیساتھ جاری رکھنے کی گنجائش ہے ، جبکہ کمرشل بینکوں کے علاوہ جو بینک مستند علماء کرام پر مشتمل "شریعہ بورڈ" کے زیر نگرانی اپنے معاملات سر انجام دیتے ہوں تو وہاں ملازمت کی گنجائش ہے، تاہم گر اس سلسلہ میں سائل کو کوئی اشکال ہو تو اس کی وضاحت کر کے حکم شرعی معلوم کر سکتا ہے۔
قال الله تعالى : ولا تعاونوا على الإثم والعدوان واتقوا الله إن الله شديد العقاب (المائدة: 2)-
وفي فقه البيوع: أما إذا كانت الوظيفة ليس لها علاقة مباشرة بالعمليات الربوية مثل وظيفة الحارس أوسائق السيارة أو العامل على الهاتف أو الموظف المسؤل عن صيانه البناء أو المعدات أو الكهرباء، أو الموظف الذي يتمحض عمله في الخدمات المصرفية المباحة مثل تحويل المبالغ الصرف العاجل للعملات، واصدار الشيك المصرفي، أو حفظ مستندات الشحن، أو تحويلها من بلد إلى بلد فلا يحرم قبولها إن لم يكن بنية الإعانة على العمليات المحرمة وإن كان الإجتناب عنها أولى ، ولا يحكم في راتبہ بالحرمة ، لماذكرنا من التفصيل فى الإعانة والتسبب اھ (۲/1033)۔