السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
حضرت ایک انتہائی اہم موضوع پر راہنمائی اور فتوی درکار ہے، پاکستان میں Gambling Act 1977 کے قانون کے تحت Sports Betting ممنوع ہے اور اللہ پاک اور اس کے سچے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان بھی اس حوالے سے بہت واضح ہے، اس کے باجود پاکستان میں Sport Betting کو Surrogate Advertising کے ذریعے بہت زیادہ فروغ دیا جارہا ہے، اور اس کے لۓ خاص طور پر کرکٹ کے کھیل کو پاکستان میں ٹارگٹ کیا جارہا ہے، کیونکہ یہ کھیل عوام میں بےحد مقبول ہے ، اور اس کے چند میچز کو 1.5 billion لوگ تک دیکھتے رہتے ہیں۔
Surrogate Advertising سے مراد اس قسم کی Advertising ہے جہاں اصل چیز کی تشہیر کے بجائے (جو کہ عام طور پر ممنوع ہوتی ہے) کسی دوسری چیز کی آڑ لے کر مشہوری کی جائے، کھیل کے شعبے میں یہ Betting کمپنیز عام طور پر نیوز ، اسپورٹس بلاگ ہونے کا دعوی کرتی ہیں ، جبکہ حقیقت میں وہ Betting کو Promote کر رہی ہوتی ہیں، کچھ کمپنیز اپنے نام میں معمولی سی تبدیلی کرکے بھی پروموشن کرتی ہیں، جیسے کہ BET کے بجائے BAT لکھ کر یا مخفف لکھ کر (Acino ) کی بجائے C ) طریقہ نام کو تبدیل کرنے کا وہ جو چاہے اختیار کریں۔ یہ کمپنیز Google میں اپنی Betting کی سائٹ کو اس ترتیب سے رینک (Rank) کرتی ہیں، کہ جیسے ہی کوئی عام آدمی Surrogate Betting Name آن لائن تلاش کرے وہ اسے اصل Betting Websites ہی پہلے دکھاتی ہے ، اس سے نہ صرف ہماری دینی معاشرتی اور معاشی قدریں زوال پذیر ہو رہی ہیں ، بلکہ نئی نسل بھی تیزی سے گمراہ ہو رہی ہے ، پاکستان میں ان کمپنیز نے پہلے کچھ نامور کھلاڑیوں کو انفرادی طور پر اپنا Brand Ambassador بنانے کی کوشش کی اور ناکام ہونے کے بعد پاکستان کی قومی اور صوبائی اور PSL کی ٹیموں کی جانب متوجہ ہوئے ، ان میں سے کچھ کمپنیز کا ان پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے ساتھ معاہدہ ہے ، جس کی ایک شق یہ ہے کہ کھلاڑی کھیل کے دوران اپنی Shirt پر ان Surrogate Betting Companies کا لوگو لگانے کا پابند ہے، یہاں یہ بات وضاحت کے قابل ہے کہ اس Team Sponsor کو چنتے وقت کھلاڑیوں سے رائے نہیں لی جاتی بلکہ Team Owners اور Authorities خود فیصلہ کرتی ہیں، یہاں اس بات پر بھی زور دینا ضروری ہے، کہ کرکٹ ، فٹبال اور دیگر کھیلوں سے وابستہ بہت سے کھلاڑی انفرادی طور پر اپنی ٹیموں کے سامنے ایسے لوگو (Logo) لگانے سے انکار کرتے آئے ہیں، جو ان کی اقدار سے میل نہیں کھاتے، بہرحال اب پاکستان میں معاملہ یہ ہے کہ ان Surrogate Betting کمپنیز کا تقریبا چار سے پانچ ٹیموں سے معاہدہ ہوچکا ہے ، اور وہ چاہتے ہیں، کہ ان کے لۓ کھیلنے والے کھلاڑی ان Surrogate Betting کمپنیز کے Logos کو اپنی ٹی شرٹ پر لگائیں، آپ سے سوال یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں:
ان ٹیموں کا ایسی Surrogate Betting کمپنیز کے ساتھ معاہدہ کرنا کیسا ہے؟
جو ٹیمیں ایسے کروڑں روپے کے معاہدے کرچکی ہوں، تو انہیں اب کیا کرنا چاہیۓ؟
اگر ٹیمیں کسی بھی وجہ سے ان معاہدوں سے باہر نہیں آسکتی ، تو ان کا اپنے کھلاڑیوں کو ایسے کمپنیز کا لوگو (Logo) لگانے پر مجبور کرنا کیسا ہے؟
انفرادی طور پر کھلاڑیوں کو اس صورتِ حال میں کیا کرنا چاہیۓ؟ خاص طور پر اس وقت جب کہ ان کی ٹیمیں یہ چاہتی ہوں کہ وہ Logo لگا کر کھیلیں؟
اگر کوئی کھلاڑی حضرات نہ جانتے ہوئے اس Surrogate Betting کمپنیز کا لوگو پہنتے رہے، تو ان کے لۓ کیا حکم ہے؟ نیز یہ کہ کیا اس بار بھی انہیں Logo لگالینا چاہیۓ؟ کیونکہ معاہدہ ان کی ٹیمیں کرچکی ہیں اور کھلاڑیوں کے Logo نہ لگانے کی صورت میں ٹیموں اور مالکان کو کروڑوں روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی کریں۔
واضح ہو کہ" جوا" اور "قمار" شریعت کی رو سے ناجائز اور حرام ہے ، قرآن و حدیث میں اس کے متعلق سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں،چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالی نے اس عمل کو شیطانی عمل قرار دیا ہے ،اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک روایتِ مبارکہ منقول ہے کہ " جس شخص نے جوا کھیلا ،گویا کہ اس نے خنزیر کا گوشت کھا لیا" نیز جس طرح جوا کھیلنا ناجائز و حرام ہے ، اسی طرح "جوئے " کی تشہیر و ترویج میں صراحتاً یا بالقصد و ارادہ ضمناً حصہ لینا بھی گناہوں کے کام میں معاونت کی وجہ سے قرآن مجید کی صریح نصوص کی رو سے ناجائز اور ممنوع عمل ہے ،اس مختصر تمہید کے بعد تمام سوالات کے ترتیب وار جوابات لکھے جاتے ہیں:
(1 ،2، 3)قومی اور صوبائی ٹیموں کے مالکان (TEAM OWNER )اور اتھارٹیز کے لۓ ، جوئے کی کمپنیوں( BETING COMPANIES ) کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنا جس سے لوگوں میں ان کمپنیوں کی تشہیر و ترویج مقصود ہو ، اس میں اگرچہ قانونی گرفت سے بچنے کے لۓ ان کمپنیوں کے ناموں میں کچھ معمولی رد و بدل کے ذریعہ تبدیلی کی جائے اور ان کمپنیوں کی صراحتاً ایڈورٹائیزنگ (ADVERTISING)کے بجائے اس کے لۓ ضمنی تشہیر ( SURROGATE BETTING) کا راستہ اختیار کیا جائے، تب بھی چونکہ بنیادی مقصد ان کمپنیوں کی تشہیر و ترویج ہوتی ہے ، اس لۓ ایسا معاہدہ کرنا حرام امور کی تشہیر و ترویج میں معاونت کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ، اور نہ ہی حرام امور کی تشہیر و ترویج کے لۓ ٹیم مالکان کا اپنے کھلاڑیوں کو کھیل کے دوران ان کمپنیوں ( BETTING COMPANIES) کا لوگو ( LOGO) لگانے پر مجبور کرنا جائز ہے۔
(4 ،5) جو کھلاڑی لاعلمی اور انجانے میں اپنی وردی پر جوئے کی کمپنیوں (BETTING COMPONY) کا لوگو ( LOGO) لگا کر غیردانستہ طور پر ان کمپنیوں کی تشہیر و ترویج کا حصہ بنے ہیں ، اس کی وجہ سے امید ہے کہ وہ گناہ گار نہ ہوں ، لیکن دانستہ طور پر اور جان بوجھ کر حرام امور کی تشہیر و ترویج میں حصہ لینا چونکہ ناجائز عمل ہے، اس لۓ قومی اور صوبائی ٹیموں کے مالکان نے اگرچہ ذاتی طور پر جوئے کی کمپنیوں ( BATTING COMPANIES) کے ساتھ معاہدہ کیا ہو ، اس میں کھلاڑیوں کا کوئی عمل دخل نہ ہو ، اور کھلاڑیوں کے انکار کی وجہ سے ٹیم مالکان کو مالی طور پر نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو ،تب بھی کھلاڑیوں کے لۓ ان کمپنیوں کا لوگو ( LOGO) استعمال کرنا اور ناجائز امور کی تشہیر و ترویج کا حصہ بننا ناجائز اور حرام عمل ہے ، لہذا ان ٹیموں کے تحت کھیلنے والے کھلاڑیوں کو اس عمل کا حصہ بننے سے اجتناب یا ایسی ٹیموں کے تحت کھیلنے سے معذرت کرنا لازم اور ضروری ہے۔
کما قال اللہ تعالی : یا ایھاالذین امنوا انما الخمر و المیسر و الانصاب و الازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون ( المائدۃ : 90)۔
و ایضاً قال تعالی : و لاتعاونوا علی الاثم والعدوان ( المائدۃ:2)۔
و ایضاً قال تعالی : فلن اکون ظہیرا للمجرمین (القصص: 17)۔
و فی أحكام القرآن ـ للجصاص : فإذا حصل المأثم بهذه الأمور فقد وفينا ظاهر الآية مقتضاها من التحريم (الی قولہ) فأنزل اللّه إِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْأَنْصابُ وَ الْأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطانِ فَاجْتَنِبُوهُ قال فالميسر القمار و الأنصاب الأوثان و الأزلام القداح كانوا يستقسمون بها اھ (2/ 4)۔
و فی احکام القرآن للتھانوی : و حاصل ما قلنا کلہ : ان الاعانۃ علی المعصیۃ لاتتحق الا بنیۃ الاعانۃ حقیقۃ او حکما بان یصرح بقصد المعصیۃ سواء قصدھا او لا ، او کان المحل مخصوصا بالمعصیۃ ، لا یستعمل الا فیھا ، بقی ھھنا شئی اخر یقارب الاعانۃ و ھو التسبب لامر خیر او شر فاذا صار الانسان سببا لخیر او شر یحتسب لہ او علیہ بنصوص القرآن والسنۃ( الی قولہ) و الحاصل ان الاجتنا ب عن خدمۃ الظلمۃ و الکفرۃ ایۃ خدمۃ کانت اولی و احفظ لدین الرجل ما امکن دفع الضرر عن نفسہ و المسلمین بدونھا اھ(3/84)۔
و فی مصنف عبد الرزاق : أخبرنا عبد الرزاق عن معمر عن قتادة أن عبد الله بن عمرو بن العاص قال من لعب بالكعبين على القمار فكأنما أكل لحم خنزير و من لعب بها على غير قمار فكأنما ادهن بشحم خنزير اھ(10/ 468)۔
و فی اعلاء السنن : و لایجوز الاستیجار علی حمل الخمر لمن یشربھا و لا علی حمل خنزیر و لامیتۃ لذالک (للاکل)و بھذا قال ابویوسف و الشافعی رحمھما اللہ اھ(16/213)۔
و فی شرح السير الكبير : فإن اشتروا دوراً للسكنى فأرادوا أن يتخذوا داراً منها كنيسة أو بيعة أو بيت نار يجتمعون فيها لصلاتهم منعوا من ذلك (الی قولہ) و كذلك يمنعون من إظهار بيع الخمور و الخنازير و نكاح ذوات المحارم في هذا المصر لأن في هذا الإظهار معنى الاستخفاف بالمسلمين و مقصودهم يحصل بدون الإظهار . و لا ينبغي لأحد من المسلمين أن يؤاجرهم بيتاً لشيء من ذلك لما فيه من صورة الإعانة إلى ما يرجع إلى الاستخفاف بالمسلمين فإن آجرهم فاظهروا شيئاً من ذلك في تلك الدار منعهم صاحب البيت و غيره من ذلك على سبيل النهي عن المنكر و هو في ذلك كغيره (4/ 210)۔