السلام علیکم! مولانا صاحب حج مقدّم ہے یا بیٹی کی شادی، جبکہ بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ جب جوان بیٹی گھر پر موجود ہے تو وہ حج پرنہیں جاسکتے، پہلے بیٹی کی شادی کریں پھر حج ، حالانکہ حج پر جانے کی رقم بھی ہوتی ہے ، بس اس لیے نہیں جاتے کہ بیٹی غیر شادی شدہ موجود ہے ، اس لیے حج جیسی اعلیٰ عبادت کیسے کریں؟ اور بعض تو سمجھتے ہیں کہ جب تک جوان بیٹی کی شادی نہیں ہوتی تب تک حج فرض نہیں ہوتا ، دلائل اور حوالے کے ساتھ جواب دیجیے تاکہ آگے مسئلہ بتانا آسان ہو۔
واضح ہو کہ حج ارکانِ اسلام میں سے ایک عظیم رکن ہے، اس کی ادائیگی ہر اس شخص کے ذمے لازم ہوتی ہے جو صاحبِ استطاعت ہو، لہذا جس شخص کے پاس حج پر جانے سے لیکر واپسی تک کے سفری اخراجات اور اس دوران اہل وعیال کے نان و نفقہ کے بنیادی اخراجات کے بقدر سرمایہ موجود ہو، تو اس پر ادائیگی حج لازم اور ضروری ہے ، لہذا جوان بیٹی کے گھر میں موجود ہونے کی وجہ سے حج کو لازم نہ سمجھنا اور حج کی ادائیگی میں تاخیر کرنا درست نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الدر : وفی الأشباه معه ألف وخاف العزوبة إن كان قبل خروج أهل بلده فله التزوج ولو وقته لزمه الحج (و) فضلا عن (نفقة عياله) ممن تلزمه نفقته لتقدم حق العبد اھ (2/462)،
و فی الہندیة :إذا وجد ما يحج به وقد قصد التزوج يحج به، ولا يتزوج؛ لأن الحج فريضة أوجبها الله تعالى - على عبده كذا فی التبيين اھ (1/217)۔