کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ راقم الحروف کو تو استاد نے فنِ تجوید کی کتابوں میں درج مخارج کے مطابق حرف ’’ض‘‘ کا مخرج مستقل علیحدہ سمجھایا، پڑھایا تھا (اس کی مشق کرائی تھی) جو ’’دال اور ظا‘‘ سے قطعاً مختلف تھا، نیز جو مشکل ہونے کے باوجود ناممکن نہیں ہے، چونکہ اردو زبان کے حروفِ تہجی کی طرح ہی ہے، لیکن پڑھے جانے میں یکسر مختلف ہے، شاید اسی وجہ سے ہمارے علاقوں میں عربی نہ جاننے والے اردو دانوں اور ان پڑھ بوڑھی عورتوں نے ’’ض‘‘ کو ’’دال‘‘ کے مشابہ پڑھنا شروع کر دیا، بعض ائمۂ مساجد بھی اس طرز پر پڑھا کرتے تھے جن کی رحلت کے بعد ان کا یہ طرز بھی کم از کم شہری علاقوں میں ان کے ساتھ مدفون ہو چکا تھا۔
مرورِ زمانے کے ساتھ ساتھ ہمارے علاقوں میں خصوصاً اور شاید دنیا بھر میں عموماً موجود حرمین کا لہجہ آیا جسے خاص طور پرائمہ مساجد نے اپنا لیا ہے، اس طرزِ قرأت کی اہم چیز یہ ہے کہ اس میں سورۃ فاتحہ میں موجود دونوں ’’ض‘‘ دال کے مشابہ سنائی دیتے ہیں، یہی ائمہ مساجد قرآن کریم میں دیگر جگہوں پر موجود حرف ’’ض‘‘ کو اکثر اس کے مخرج کے مطابق ہی پڑھتے ہیں، بعض عامی حضرات ہر ’’ض‘‘ کو دال کے مشابہ بھی پڑھتے ہیں۔
مندرجہ بالا زمینی حقیقت کے تناظر میں درجِ ذیل اشکالات کے حل کے لیے راہنمائی کی ضرورت ہے:
۱۔ کیا مرورِ زمانہ کے ساتھ حرف ’’ض‘‘ کا مخرج تبدیل ہوگیا ہے؟
۲۔ کیا مختلف سات عربی حروف میں نازل ہونے والے قرآن کے کسی حرف میں ’’ض‘‘ دال کے مشابہ ہے؟
۳۔ کیا فنِ تجوید کی کتابوں میں درج مخرج کے خلاف مخرج کو اپنا لینا تحریف کے زمرے میں تو نہیں آتا؟
۴۔ اس مخرج کو صرف سورۃ فاتحہ میں اپنانے کی کیاتوجیہ کی جا سکتی ہے؟
۵۔ کیا اس کو لحنِ جلی میں داخل کیا جا سکتا ہے؟ جیسا کہ اس سے پہلے کے دور میں مجہول قرار دیتے ہوئے داخل کیا گیا تھا۔
۶۔ نماز کی صحت پر اس کے کیا اثرات واقع ہوتے ہیں؟
۱تا ۵۔ حرفِ ضاد کا مخرج زبان کی کروٹ اور دائیں یا بائیں داڑھ کے دانت ہیں اور یہ اپنے اس مخرج اور مخصوص صفات کے اعتبار سے بالکل الگ اور جدا حرف ہےاور مرورِ زمانہ یا کسی شخص کی مخصوص ادائیگی کی وجہ سے اس کا مخرج بھی متأثر نہیں ہوتا، جبکہ اس حرف کو اگر قواعد کے مطابق اپنے مخرج سے تمام صفات کی رعایت کرتے ہوئے ادا کیا جائے تو اس کی آواز ظاء سے مشابہ معلوم ہوتی ہے نہ دال کے، جبکہ ظاء سے مشابہت بھی بعض صفات میں مشارکت کی وجہ سے محض صوتی ہے، اب اگر کوئی شخص کوشش کے باوجود اس کی ادائیگی ایسی کرے کہ آواز دال وغیرہ کسی حرف جیسی معلوم ہونے لگے تو یہ شرعاً تحریف کے زمرے میں بھی نہیں آتا، البتہ ادائیگی کی غلطی یا فن تجوید سے ناواقفیت کہلا ئی جاسکتی ہے اور قصداً حرفِ ’’ضاد‘‘ کو دال پڑھنا بلاشبہ لحنِ جلی ہے، جبکہ اس اختلاف کے ، صرف فاتحہ کے ساتھ تخصیص کی کوئی توجیہ نہیں۔
۶۔ جہاں تک صحتِ صلوٰۃ کا مسئلہ ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کوشش کے ساتھ قرآن شریف کے اس حرف کی ادائیگی کرے اور اس کا مقصود اس حرف یا کسی بھی حرفِ قرآنی کی صحتِ اداء ہو تو اس کوشش کے باوجود چاہے سننے والے کو کچھ بھی سنائی دے نماز درست ادا ہوجائیگی، جبکہ صحتِ اداء پر قدرت کے باوجود قصداً ایک حرف کی جگہ دوسرا پڑھ دینے سے نماز صحیح نہ ہوگی، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آدمی حروف کی صحتِ اداء سے غافل ہوجائے، بلکہ تجوید کی درستگی کی بدستور کوشش جاری رکھے۔
وفی حاشية ابن عابدين: وإن كان الخطأ بإبدال حرف بحرف، فإن أمكن الفصل بينهما بلا كلفة كالصاد مع الطاء بأن قرأ الطالحات مكان الصالحات فاتفقوا على أنه مفسد، وإن لم يمكن إلا بمشقة كالظاء مع الضاد والصاد مع السين فأكثرهم على عدم الفساد لعموم البلوى. وبعضهم يعتبر عسر الفصل بين الحرفين وعدمه. وبعضهم قرب المخرج وعدمه الخ (1/ 631)۔
وفیه أیضاً: وفي خزانة الأكمل قال القاضي أبو عاصم: إن تعمد ذلك تفسد، وإن جرى على لسانه أو لا يعرف التمييز لا تفسد، وهو المختار حلية وفي البزازية: وهو أعدل الأقاويل، وهو المختار اهـ وفي التتارخانية عن الحاوي: حكى عن الصفار أنه كان يقول: الخطأ إذا دخل في الحروف لا يفسد لأن فيه بلوى عامة الناس لأنهم لا يقيمون الحروف إلا بمشقة. اهـ. وفيها: إذا لم يكن بين الحرفين اتحاد المخرج ولا قربه إلا أن فيه بلوى العامة كالذال مكان الصاد أو الزاي المحض مكان الذال والظاء مكان الضاد لا تفسد عند بعض المشايخ. اهـ(1/ 633)۔