کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کراچی میں تقریبا سیوریج کا پانی سمندر میں ہی چھوڑ دیتے ہیں( بندرگاہ کی حدود میں) جو کہ نیٹی جیٹی کے مقام پر ہی ہے تو لوگ مقدس اوراق کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے شہر بھر میں مختلف ڈبے/ جگہوں سے جمع شدہ مقدس اوراق کو سمندر میں بہا دیتے ہیں، تو اکثر یہ اوراق لہروں کی وجہ سے دوبارہ کناروں پر آجاتے ہیں۔ اور وہاں چونکہ سیوریج کا پانی بھی ہوتا ہے توبےحرمتی ہوتی ہے اور یہ بے حرمتی دانستہ اور نادانستہ دونوں صورتوں میں ہو رہی ہے ۔
ایک جماعت جو مقدس اوراق کو جمع کرتی ہیں تو ان لوگوں اور گودام پر جو خرچہ آتا ہےان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ان اوراق کو کاغذ بنانے والے کارخانوں کو فروخت کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ میری ناقص رائے میں ان اوراق کو سمندر میں ڈالنے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ ان کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا عمل کیا جائے، تو اس طرح وہ ادارہ بھی دلچسپی سے کام کرے گا کہ آخر میں انہیں اچھی اجرت بھی ملے گی اور کاغذ بھی دوبارہ قابلِ استعمال ہوگااور کیا اس طرح کی آمدنی کو جو خرچ کے بعد بچ جائے ذاتی مصرف میں لایا جاسکتا ہے کہ نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
نوٹ: کاغذ بننے کے عمل میں کاغذ کو زمین دوز یا زمین سے اوپر ٹینک میں ڈال کر پانی چھوڑا جاتا ہے اور وہ مشین کاغذ و پانی کو اس طرح گھماتی ہے جس طرح کپڑے دھونے والی مشین میں کپڑے گھومتے ہیں اور آخر میں وہ ایک بیسٹ بن جاتی ہے، لکھائی کو مٹانے کے لیے کیمیکل استعمال ہوتے ہیں جس سے کاغذ واپس سفید ہو جاتا ہے اور پھر بیسٹ کو پائپ کے ذریعہ دوسری مشین میں ڈالاجاتا ہے جہاں مزید پروسیس ہوتا ہے اور آخر میں ایک شیٹ کی صورت میں نکلتا ہے جہاں آگ سے کاغذ کو سکھایا جا تا ہے او ردوسری طرف وہ ایک رول کی صورت میں اکٹھا ہوتا ہے۔
مذکور مقدس اوراق کو بے حرمتی سے بچانے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ایسے تمام اوراق ایسی جگہ دفن کیے جائیں جہاں سے لوگوں کے گزرنے اور بے حرمتی کا ندیشہ نہ ہو یا پھر سمندر کے وسط میں لے جاکر ڈال دیئے جائیں، لیکن ایسی جگہ ہر گز نہ ڈالیں جہاں گندگی جمع ہوتی ہو اور ان مقدس اوراق کی بے حرمتی ہوتی ہو ، جیسا کہ سوال میں جس جگہ کا ذکر ہے ایسی جگہ ان مقدس اوراق کا ڈالنا واقعۃً بے حرمتی اور گناہ کی بات ہے، اس سےاحتراز لازم ہے۔
جبکہ ایسے اوراق ایسی کمپنی کو فروخت کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو استعمال کرنا بھی درست ہے جو ان کو پانی سے صاف کرے اور جب اس کے نقوش مٹ جائیں تو دوسرے کسی کام کے لیے ان کو استعمال کرے، جبکہ ان سے تحریری نقوش صاف کیے بغیر انہیں گتہ وغیرہ بنانے میں استعمال کرنا درست نہیں، اس سے بھی احتراز چاہیۓ۔
ففی الدر المختار: الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله و ملائكته ورسله و يحرق الباقي و لا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن و هو أحسن كما في الأنبياء.اھ (6/ 422)۔
و فی الفتاوى الهندية: و لو محا لوحا كتب فيه القرآن و استعمله في أمر الدنيا يجوز، و قد ورد النهي عن محو اسم الله تعالى بالبزاق ،كذا في الغرائب اھ(5/ 322)۔
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0