کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
(۱) کسی شخص کو کسی نے اغواء کرکے مثلاً زید نے عمرو کو اغواء کرکے کہا کہ بکر اور خالد کو قتل کرو ورنہ تمہیں قتل کردوں گا ، اب اس نے ان کو قتل کردیا اور یہ قتل اس وقت ہوا جب عمرو پر تشدد کیا گیا تو کیا اب عمر و پر کوئی تاوان لازم ہوگا؟ یعنی دیت یا قصاص؟ اور اسے یہ یقین تھا کہ اگر میں قتل نہ کروں تو خود قتل ہوجاؤں گا۔
(۲) عورت کے مرنے پر شوہر یا شوہرکے مرنے پر بیوی ایک دوسرے کو غسل اور کفن دے سکتے ہیں یا نہیں؟ بیوی فوت ہوئی شوہر اس کو غسل دے سکتا ہے یا نہیں؟
(۳) دورانِ عدت عورت جو کہ عدت میں ہے وہ اپنے کسی رشتہ دار کی وفات میں یا کسی خوشی مثلاً شادی وغیرہ میں جاسکتی ہے یا نہیں؟
(۱) صورتِ مسئولہ میں ’’عمرو‘‘ نے زید کی دھمکی اور تشدد کی بناء پر مجبور ہو کر جو قتل کئے ہیں تو اس کی وجہ سے وہ بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہوا ہے اسے چاہئے کہ اپنے اس فعل پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرے، البتہ اس صورت میں چونکہ ’’عمرو‘‘ اپنی جان کے بچانے کیلئے محض آلہ کے طور پر استعمال ہوا ہے، اس لئے مذکور قتل کی قصاص یا دیت عمرو کے بجائے اصل مجرم ’’زید‘‘ پر لازم ہوگی۔
(۲) بیوی کی وفات کے بعد شوہر اسے غسل و کفن نہیں دے سکتا البتہ شوہر کے انتقال کی صورت میں اگر کوئی اور نہلانے والا موجود نہ ہو تو بیوی اسے نہلا کر کفن دے سکتی ہے۔
(۳) دورانِ عدت اس قسم کی مجالس میں شرکت کرنا جائز نہیں، لہٰذا ان مجالس میں شرکت کرنے سے بھی احتراز لازم ہے۔
فی الدر مع رد المحتار : (فان اکرہ علی میتۃ الخ) الاکراہ علی المعاصی أنواع ، نوع یرخص لہ فعلہ و یثاب علی ترکہ کاجراء کلمۃ الکفر الخ و قسم یحرم فعلہ و یاثم بإتیانہ کقتل مسلم او قطع عضو۔
و قال ایضًا : و یقاد فی القتل (العمد المکرہ) بالکسر لو مکلفا۔ الخ ( ج۶، ص۱۳۳ تا ۱۳۶)۔
و قال فی الہندیۃ : و ان اکرہ علی قتل غیرہ بقتل لم یرخص و لم یسعہ ان یقدم علیہ و یصبر حتی یقتل فان قتلہ کان اٰثمًا و القصاص علی المکرہ کذا فی الکافی۔(ج۶، ص۳۹)۔
فی الدر المختار : (و یمنع زوجہا من غسلہا و مسہا لامن النظر الیہا علی الاصح و ھی لا تمنع من ذٰلک) اھـ( ج۲، ص۱۹۸)۔
و فی البحر الرائق: (قولہ و معتدۃ الموت تخرج یومًا و بعض اللیل) لتکتسب لأجل قیام المعیشۃ لانہ لا نفقۃ لہا حتی لوکان عندہا کفایتہا صارت کالمطلقۃ ، فلا یحل لہا ان تخرج لزیارۃ و لا لغیرہا لیلا و لا نہارا۔ و الحاصل ان مدا رالحل کون خروجہا بسبب قیام شغل المعیشۃ فیتقدر بقدرہ فمتی انقضت حاجتہا لا یحل لہا بعد ذٰلک صرف الزمان خارج بیتہا کذا فی فتح القدیر۔ و اقول لوصح ھذا عمّم اصحابنا الحکم فقالوا لا تخرج المعتدۃ عن طلاق أو موت إلا لضرورۃ لان المطلقۃ تخرج للضرورۃ بحسبہا لیلا کان أو نہارا و المعتدۃ عن موت کذٰلک۔ اھـ(ج۴، ص۱۵۳)۔
بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے اگر بچہ ضائع ہو گیا تو کیا خاوند پر اس کی دیت آئے گی؟
یونیکوڈ حدود و قصاص 0