کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص آغاخانی تھا اور اب مسلمان ہوگیا ہے،لیکن اس کی بیوی ابھی تک آغاخانی ہے اور وہ مسلمان ہونا نہیں چاہتی ہے ، تو معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ان دونوں کا باہم میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا جائز ہے یا نہیں؟ اور مذکور شخص کو اپنی بیوی کیساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیۓ ؟
شخصِ مذکور کی بیوی اگر باوجود دعوتِ اسلام کے ، مسلمان ہونا نہیں چاہتی تو ایسی صورت میں ان دونوں کا باہم میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا جائز نہیں ،اس لۓ شخصِ مذکور کو چاہیۓ کہ مذکور خاتون سے علیحدگی اختیار کرے، پھر علیحدگی الفاظِ طلاق بول کر ہوجائے تو یہ زیادہ بہتر ہے ۔
فی الدر المختار : (و إذا) (أسلم أحد الزوجين المجوسيين أو امرأة الكتابي عرض الإسلام على الآخر ، فإن أسلم) فبها (و إلا) بأن أبى و سکت فرق بینھما اھ و فی رد المحتار : والمراد بالمجوسي من ليس له كتاب سماوي، فيشمل الوثني والدهري. و أراد المصنف بالزوجين المجتمعين في دار الإسلام ؛ و سيأتي محترزه في قوله و لو أسلم أحدهما ثمة إلخ (قوله أو امرأة الكتابي) أما إذا أسلم زوج الكتابية فإن النكاح يبقى الخ(ج 3 ص 188)۔
گھر میں میت کے ہوتے ہوئے قرآنِ کریم یا کلمے وغیرہ پڑھنے کا اہتمام کرنا
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0شادی شدہ عیسائی عورت کا اسلام قبول کرنے کے بعد کسی مسلمان سےنکاح کا حکم اور اس کا شرعی طریقہ
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 1قادیانی عورت کے اسلام قبول کرنے کے بعد ،کسی مسلمان سے نکاح کیلۓ توقف کا دورانیہ
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0زیارتِ قبور کے لۓ قبرستان جانے کے آداب ، نیز کن ایام میں جانا اولیٰ ہے؟
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0کیا نومسلمہ کے احکامِ اسلام پر عمل نہ کرنے سے ایمان ختم ہوجاتا ہے؟؟
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0