کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید لاہور کا رہنے والا ہے اور کراچی میں تعلیم حاصل کرتا ہے اور سال میں زید کی دو ماہ کے لۓ چھٹی ہوتی ہے ، ان دو ماہ کی چھٹیوں میں زید بمع اپنے تمام سامان کے لاہور چلا جاتا ہے۔
دریافت طلب اَمر یہ ہےکہ اب اگر زید اپنی ان دو ماہ کی چھٹیوں کے دوران ۵ یا ۶ دن کے لۓ کراچی آئے تو کیا نما ز میں قصر کرےگا یا پوری پڑھےگا؟ براہِ مہربانی کسی صریح حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور مسمیّٰ زید اگر لاہور سے کراچی پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت سے چھٹیوں کے دوران آئےگا تو وہ شرعاً مسافر کہلائےگا اور اس مدت کے دوران وہ اپنی تنہا نماز میں قصر کرےگا۔
ففی الهدایة: وھذ لأن الأصل أن الوطن الأصلی تبطل بمثله دون السفر ووطن الإقامة تبطل بمثله وبالسفر وبالأصلی اھ(۱/۱۶۷)۔
وفی البحر الرائق: كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر اهـ. (2/ 147)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4