میں اسلام آباد میں رہتا ہوں، اسلام آباد میں رہتے ہوئے مجھے تین سال ہو چکے ہیں، اسلام آباد منتقل ہونے سے پہلے میں کراچی میں رہتا تھا، میری پیدائش کراچی کی ہے اور میں نے 41 سال کراچی میں گزارے ہیں، کراچی میں میرے نام سے جائیداد بھی ہے جو کہ کرائے پر دی ہوئی ہے، اس کے علاوہ دو عدد پلاٹ بھی ہیں، کراچی میں میرے والدین کا گھر بھی ہے۔
ملازمت اور کام کے سلسلے میں میرا ہر ۱۵ دن بعد ایک دن کے لۓ کراچی آنا ہوتا ہے، کراچی میں عموماً اپنے والدین کے گھر رُکتا ہوں، کبھی کبھی ہوٹل میں بھی رُکنا پڑتا ہے، کراچی میں ایک یا ایک سے زائد دن رُکنے کی صورت میں نماز کی ادائیگی کے حوالہ سے میرے درجِ ذیل سوالات ہیں:
۱۔ کراچی میں مجھے مکمل نماز ادا کرنی ہوگی یا قصر ؟
۲۔ اگر مجھے قصر نماز دا کرنی تھی،لیکن اب تک میں نے مکمل نماز ادا کی ہے، تو میرے لۓ کیا حکم ہے؟
۳۔ کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے یا اسلام آباد سے کراچی آتے ہوئے کبھی کبھی نماز کا وقت دورانِ پرواز شروع ہو کر ختم ہو جاتا ہے، اس دوران نماز کی ادائیگی کے لۓ کیا حکم ہے؟ اس کا کیا طریقہ ہے؟ اگر جہاز میں نماز ادا نہ کی جا سکے تو منزل پر اُتر کر ادا کریں تو قضا ہوگی یا نہیں؟
۴۔ نماز لوٹانے کا کیا طریقہ ہے؟ اس کے لۓ نیت کیا اور کیسے کرنی ہوگی؟
۵۔ یہ کہا جاتا ہے کہ دورانِ پرواز جہاز میں ادا کی ہوئی نماز منزل پر اتر کر دوبارہ لوٹانی پڑے گی، کیا یہ صحیح ہے؟
نوٹ: اسلام آبادمیں میری رہائش فی الحال اگرچہ کرایہ کے مکان میں ہے،لیکن اپنا پلاٹ بھی اور مستقبل میں بھی فی الحال کراچی شفٹ ہونے اور رہائش رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں، بلکہ اسلام آباد میں ہی رہنے کا مستقل پروگرام ہے اور سائل کے بیوی بچے بھی ان کے ساتھ اسلام آباد میں ہیں، جبکہ سائل نے فون پر بتایا ہےکہ اس نے کراچی کو بالکل ترک کر کے اسلام آباد ہی کو اپنا وطنِ اصلی بنانے کا عزم کر لیا ہے۔
جب سائل نے کراچی کو مکمل طور پر چھوڑ کر اسلام آباد کو اپنا وطنِ اصلی بنایا ہے تو اس صورت میں ان کا وطنِ اصلی اسلام آباد بن چکا ہے اور کراچی ان کا وطنِ اصلی نہیں رہا ، اس لۓ جب بھی وہ کراچی پندرہ دنوں سے کم کے لۓ آئیں تو اپنی انفرادی نماز میں قصر کریں۔
تاہم اب تک جو نمازیں لاعلمی میں پوری پڑھی ہیں وہ ادا ہو چکی ہیں ، ان کو دوبارہ دُہرانے کی ضرورت نہیں، جبکہ دورانِ سفر پرواز کے دوران آنے والی نمازوں کو جہاز ہی میں قبلہ رُو کھڑے ہو کر پڑھنا لازم ہے، البتہ کسی وجہ سے پڑھ نہ سکیں تو مقام میں پہنچ کر قضاء کرے، جبکہ سفر کے دوران قضاء ہونے والی نمازوں کی قضاء کا طریقہ یہ ہے کہ ’’فلان دن فلاں تاریخ کی مثلاً ظہر کی نماز کی قضاء پڑھتا ہوں‘‘ کے الفاظ کہے تاہم جو نماز سفر میں قضاء ہو اس کی قضاء میں بھی قصر ہی ہوگی، جبکہ دورانِ پرواز پڑھی ہوئی نماز کا اعادہ لازم نہیں۔
في الدر المختار: (الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه اھ وفی رد المحتار: (قوله أو تأهله) أي تزوجه. قال في شرح المنية: ولو تزوج المسافر ببلد ولم ينو الإقامة به فقيل لا يصير مقيما، وقيل يصير مقيما؛ وهو الأوجه ولو كان له أهل ببلدتين فأيتهما دخلها صار مقيما، فإن ماتت زوجته في إحداهما وبقي له فيها دور وعقار قيل لا يبقى وطنا له إذ المعتبر الأهل دون الدار كما لو تأهل ببلدة واستقرت سكنا له وليس له فيها دار وقيل تبقى. اهـ. (قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فلو كان له أبوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية. اھ(2/ 131)۔
وفی الدر المختار: (فلو أتم مسافر إن قعد في) القعدة (الأولى تم فرضه و) لكنه (أساء) لو عامدا لتأخير السلام وترك واجب القصر وواجب تكبيرة افتتاح النفل وخلط النفل بالفرض اھ(2/ 128)۔
وفیه أیضا: (والقضاء يحكي) أي يشابه (الأداء سفرا وحضرا) اھ(2/ 134)۔
وفی الدر المختار: (ولا بد من التعيين عند النية) فلو جهل الفرضية لم يجز(إلی قوله) (لفرض) أنه ظهر أو عصر قرنه باليوم أو الوقت أو لاهو الأصح (ولو) الفرض (قضاء) اھ (1/ 419،418)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4