کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ ایک فیکٹری میں ایک مسلمان اور ایک ہندو مِل کر کام کرتے ہیں، ہندو سگریٹ پی رہا تھا اور مسلمان نے اُسی سگریٹ سے پیا اور اُسی فیکٹری میں ایک بریلوی بھی ہے اور بریلوی نے مسلمان سے کہا کہ ہم چالیس دن تک نہ کھانا کھائیں گے اور نہ کچھ پئیں گے، بریلوی کہتا ہے کہ مسلمان نے ہندو کا جھوٹا پیا ہے، مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کریں کہ کیا بریلوی نے صحیح کہا ہے یا نہیں؟
سوال میں مذکور بے احتیاطی اگرچہ اخلاق سے گری ہوئی اور اتنہائی نامناسب ہے، مگر اس بے احتیاطی کی بناء پر اس مسلمان کے ساتھ کھانے پینے وغیرہ سے احتراز کر کے قطع تعلق ہو جانا، اس سے بھی زیادہ نامناسب اور بری بات ہے، کیونکہ شریعتِ مطہرہ نے کسی کافر اور مرتد یا ہندو شخص کے جھوٹے پانی اور کھانے کے استعمال کو بھی اس وقت منع فرمایا ہے، جب اُس نے کوئی نجس چیز مثلاً شراب وغیرہ پی کر اور منہ صاف کیے بغیر اس چیز کو جھوٹا بنایا ہو ، ورنہ عمومی حالت میں اس سے منع نہیں فرمایا ،لہٰذا سوال میں مذکو رشخص کو بلاتحقیق و تفصیل مسائلِ شرعیہ بیان کر کے امتِ محمدیہ میں اختلاف و انتشار پھیلانے سے احتراز لازم ہے۔
فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين: (فسؤر آدمي مطلقا) ولو جنبا أو كافرا أو امرأة (إلی قوله)(ومأكول لحم) ومنه الفرس في الأصح ومثله ما لا دم له (طاهر الفم) (إلی قوله) (طاهر) طهور بلا كراهة اھ (1/ 222)۔
وفی الفتاوى الهندية: سؤر الآدمي طاهر ويدخل في هذا الجنب والحائض والنفساء والكافر إلا سؤر شارب الخمر ومن دمي فوه إذا شرب على فور ذلك فإنه نجس وإن ابتلع ريقه مرارا طهر فمه على الصحيح كذا في السراج الوهاج اھ(1/ 23)۔
مشینی جھٹکے سے ذبح شدہ جانور اور مشکوک و نامعلوم کھانوں کا حکم
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0فیکٹری مالک کو بتائے بغیر ، اس کی فیکٹری سے پانی و بجلی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0بلی اگر آٹا جھوٹا کرلے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے-کن کن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے؟
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0