السلام علیکم! عورت کو پیشاب کی جگہ آگے کی کھال کے اندر پانی پہنچانا غسل میں فرض ہے، اگر پانی نہ پہنچے گا تو غسل نہ ہوگا اگر مرد کا ختنہ نہ ہوا ہو تو اس کابھی یہی حکم ہے کہ اگر کھال کے کھولنے میں دقت نہ ہو تو کھال کے اندر پانی ڈالنا فرض ہے اور دقت ہو تو فرض نہیں تسہیل بہشتی زیور (اساتذہ جامعۃ الرشید) اس مسئلہ کی تھوڑی وضاحت چاہتاہوں عورت سے متعلق کہ یہ کس طرح کے کھال کے بارے میں بات ہورہی ہے یا اس کھال کو کیا کہتے ہیں؟ اور مزید یہ کے کیا عورت کو اپنی شرمگاہ کے اندر انگلی ڈال کر صفائی کرنا ضروری ہے؟ اور صحبت کے بعد جب اندرکے حصے میں ناپاکی ہو تو اس کو صاف کیسے کرے؟
واضح ہو کہ عورت کی شرمگاہ کے فقہاء کرام نے دو حصے ذکر فرمائے ہیں، ایک وہ حصہ جو شرمگاہ میں موجود گول سوراخ کے بعد شروع ہوتاہے، جس ’’فرج داخل‘‘ سے تعبیر کیا جاتاہے، جبکہ دوسرا اس کا بیرونی حصہ ہے، جو کہ دونوں اطراف سے ہونٹ نما ایک باریک کھال سے ڈھکا ہوا ہوتاہے، جسے فقہ کی اصطلاح میں ’’فرج خارج‘‘ سے تعبیر کیا جاتاہے، لہٰذا فرض غسل کے دوران عورت کے ذمہ ان ہونٹ نما کھالوں کے اندر ’’فرج خارج‘‘ تک پانی پہنچانا لازم اور ضروری ہے، اور سوال میں جس مسئلہ کا حوالہ دیا گیا ہے، اس سے بھی یہی مراد ہے، جبکہ فرض غسل میں شرمگاہ کا اندرونی حصہ ’’فرج داخل‘‘ کا دھونا چونکہ لازم اور ضروری نہیں ہے، اس لیے عورت کے لیے غسل کےو قت شرمگاہ کے اندر انگلی داخل کرکے اندرونی حصے کی صفائی کرنا بھی لازم اور ضروری نہیں ہے۔
ففی حاشیة الطحطاوی: ’’و‘‘یفترض ’’غسل الشارب و‘‘ بشرة ’’الحاجب‘‘ وشعرهما ’’والفرج الخارج‘‘ لأنه کالفم لا الداخل لأنه کالحلق کما تقدم. اھ (ص: ۱۰۳)
وفیه ایضًا: ’’والمرأة تصعد بنصرها وأوسط أصابعها معا ابتداء خشیة حصول اللذة‘‘ لو ابتدأت بأصبع واحدة فربما وجب علیها الغسل ولم تشعر والعذراء لا تستنجي باصابعها بل براحة کفها خوف من إزالة العذرة اھ (ص: ۴۷)
وفیه ایضًا: وفي السراج هو قل العامة وقیل تسنجی برؤس أصابعها لأنها تحتاج إلی تطهیر فرجها الخارج ولا یحصل ذلك إلا برؤس الأصابع اھ (ص: ۴۸)
وفی رد المحتار: (قوله: برطوبة الفرج) أي الداخل بدلیل قوله أولج: وأما رطوبة الفرج الخارج فطاهرة اتفاقا اھ (۱/ ۳۱۳)
وفی البحر الرائق: وتغسل فرجها الخارج وجوبا فی الغسل فی الوضوء کذا فی المحیط؛ لأنه کالفم ولا تدخل أصابعها فی قبلها وبه یفتی اھ (۱/ ۴۹)
وفی الموسوعة الفقهیة الکویتیة: وذهب جمهور الفقهاء إلی نجاسة رطوبة الفرج الخارجة من باطنه، لأنها حینئذ رطوبة داخلیة، أما الخارجة من ظاهر الفرج وهو ما یجب غسله فی الغسل والاستنجاء فهی طاهرة. (۳۲/ ۸۵)
وفی الفتاوی الهندیة: ویجب علی المرأة غسل فرجها الخارج فی الجنابة والحیض والنفاس ویسن فی الوضوء کذا في محیط السرخسي وفی الفتاوی الغیاثیة ولا تدخل المرأة أصبعها فی فرجها عند الغسل وهو المختار کذا فی التتار خانیة. اھ (۱/ ۱۴) واللہ اعلم!