کیا فرماتے ہیں علماءکرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ، آج کل جدید طِبّی تحقیقات میں ایک تحقیق الٹراساؤنڈ کی ہے، جو کہ ایک محلول کو آلہ پر لگا کر رحم پر آلہ کو گھومایا جاتا ہے، یہ ظاہر ی طریقہ ہے، جبکہ دوسرا باطنی طریقہ ہے کہ، ایک آلہ جسے Brobe کہتے ہیں، اس آلہ کو رحم میں داخل کیا جاتا ہے، اور اندر کی کیفیت کی تحقیق کی جاتی ہے۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس دوسرے طریقے پر غسل فرض ہوگا یا نہیں؟ اور الٹراساؤنڈ کا محلول Aquous پانی سے تیار ہوتا ہے، اس کو پاک مانا جائے گا یا ناپاک؟
اگر عورت کو انزال نہ ہو، تو محض الٹراساؤنڈ کے آلہ (Brobe) کے رحم میں دخول سے غسل فرض نہ ہوگا، البتہ اس آلہ کے رحم سے اخراج کے بعد بہرصورت اس پر لگنے والا پانی بلاشبہ ناپاک کہلائے گا اور مذکور عمل ناقضِ وضو بھی ہے۔
ففی الدر المختار: (و) لا عند (إدخال إصبع ونحوه) كذكر غير آدمي وذكر خنثى وميت وصبي لا يشتهي وما يصنع من نحو خشب (في الدبر أو القبل) على المختاراھ(1/ 166)
وفیه أیضاً: وفي المجتبى أولج فنزع فأنزل لم يطهر إلا بغسله لتلوثه بالنجس انتهى أي: برطوبة الفرج اھ(1/ 312)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: برطوبة الفرج) أي: الداخل بدليل قوله أولج. وأما رطوبة الفرج الخارج فطاهرة اتفاقا (إلی قوله) ومن وراء باطن الفرج فإنه نجس قطعا ككل خارج من الباطن كالماء الخارج مع الولد أو قبيله اھ(1/ 313)
وفی الفتاوی الھندیة: ﺇﺫا ﺟﻮﻣﻌﺖ اﻟﻤﺮﺃﺓ ﻓﻴﻤﺎ ﺩﻭﻥ اﻟﻔﺮﺝ ﻭﻭﺻﻞ اﻟﻤﻨﻲ ﺇﻟﻰ ﺭﺣﻤﻬﺎ ﻭﻫﻲ ﺑﻜﺮ ﺃﻭ ﺛﻴﺐ ﻻ ﻏﺴﻞ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻟﻔﻘﺪ اﻟﺴﺒﺐ ﻭﻫﻮ اﻹﻧﺰاﻝ ﺃﻭ ﻣﻮاﺭاﺓ اﻟﺤﺸﻔﺔ ﺣﺘﻰ ﻟﻮ ﺣﺒﻠﺖ ﻛﺎﻥ ﻋﻠﻴﻬﺎ اﻟﻐﺴﻞ ﻟﻮﺟﻮﺩ اﻹﻧﺰاﻝ اھ (15/1)
وفی الفتاوى الهندية: وإن أولج الخنثى المشكل ذكره في فرج امرأة أو دبرها فلا غسل عليهما وكذا في فرج خنثى مثله وإن أولج رجل في فرج خنثى مشكل لم يجب عليه الغسل وهذا كله إذاكان من غير إنزال وجب الغسل بالإنزال. كذا في السراج الوهاج اھ (1/ 15) واللہ أعلم بالصواب!
۱/ربیع الأول/۱۴۲۵ھ