کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ، ہمارے گاؤں میں ایک ہی مسجد ہے، اور اس مسجد کے امام کو یہ گاؤں والے تقریباً بیس ہزار تنخواہ سالانہ دیتے ہیں، اس کے علاوہ صدقہ فطر بھی دیتے ہیں، جو کہ تقریباً تیس ہزار بنتے ہیں، اور بقرہ عید پر چمڑے بھی دیتے ہیں، یہ تقریباً پندرہ ہزار بنتے ہیں، اور زکوٰۃ بھی دیتے ہیں جو کہ پینتیس ہزار بنتے ہیں، اور تھوڑی بہت دوسری اشیاء بھی دے دیت ے ہیں، یہ ایک سال کی آمدنی ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ گاؤں میں میت ہوتی ہے, تو میت کو غسل دینے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ مسجد کے امام کی یا رشتہ داروں کی یا گاؤں والوں کی؟ براہِ مہربانی یہ مسئلہ شریعت کی روشنی میں واضح فرما دیں۔
میّت کو غسل دینا بھی باعثِ اجر وثواب ہے، اور شرعاً اس کی اصل ذمہ داری اہلِ میت پر ہے، اگر ان میں سے کوئی نہ ہو یا وہ اس کا طریقہ نہ جانتے ہوں، تو پھر دیگر متعلقین اور اہلِ محلہ (جن میں امام مسجد بھی داخل ہے) پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے، صرف امام مسجد کو اس کا ذمہ دار قرار دینے سے احتراز چاہیے۔
ففی الفتاوى الهندية: غسل الميت حق واجب على الأحياء بالسنة واجماع الأمة، كذا في النهاية، ولكن إذا قام به البعض سقط عن الباقين، كذا في الكافي اھ(1/ 158)
وفیھا أیضاً: ويستحب للغاسل أن يكون أقرب الناس إلى الميت فإن لم يعلم الغسل فأهل الأمانة والورع، كذا في الزاهدي اھ (1/159)واللہ أعلم