کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان دو مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) میں جب نیت باندھتا ہوں تو دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں قبلہ کی سمت کرتا ہوں جبکہ اکثر لوگ ہاتھوں کی بڑی انگلیاں کانوں کی لو تک لے جاتے ہیں اور اکثر ان کی ہتھیلیاں بجائے قبلہ کی طرف، ان کے چہرے کی طرف ہوتی ہیں جبکہ میں صرف کندھے سے اوپر تک ہاتھ اُٹھاتا ہوں اور ہاتھوں کے انگلیوں کے سرے کانوں کی لو تک مشکل سے پہنچتے ہیں ،مجھے کسی نے کہا کہ تمہارا یہ طریقہ نیت باندھنے کا ،ٹھیک نہیں ہے، لہٰذا آپ مجھے شریعت کی رو سے جو طریقہ نیت باندھنے کا ہے، اس طریقے سے آگاہ کرکے میری رہنمائی فرمائیں، واضح رہے کہ میرا تعلق فقہ حنفیہ سے ہے۔
(۲) بعض اوقات اپنی گھر والی سے پیار و محبت اور بوس و کنار کرنے سے یا کسی بازار میں جہاں خواتین کا زیادہ رش ہوتا ہے اور انسان شیطان کے دھوکے میں آکر اپنے جذبات پر قابو نہیں پاتا تو اعضاءِ تناسل سے انڈے کی سفیدی کی طرح کا پانی نکل جاتا ہے ، اکثر میں بھی اس کا شکار ہوتا ہوں اور میرا بھی اس قسم کا پانی نکل جاتا ہے، اس کے بعد متاثرہ حصہ کو دھوکر بغیر غسل کئے نماز وغیرہ ادا کرتا ہوں ،آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ اس قسم کے پانی نکلنے سے مرد پر غسل واجب ہوتا ہے یا نہیں؟ یا بغیر غسل کئے صرف وضو اور استنجا کرنے سے نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟ شریعت کی رو سے آپ مجھے ان مسائل کا حل بتلاکر میری پریشانی دور کرنے میں میری مدد فرمائیں۔
اللہ آپ پر اپنی مہربانیوں کی بارش برسادیں۔ آمین
(۱) صورتِ مسئولہ میں نیت کے بعد ہاتھ اُٹھانے کا جو طریقہ آپ اپنائے ہوئے ہیں یہ درست ہے۔
(۲) بوس و کنار کی وجہ سے جو پانی نکلتا ہے اس کو مذی کہتے ہیں اس کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا ،البتہ اس پانی کے نکلنے سے وضو جاتا رہتا ہے اور کپڑوں وغیرہ پر لگ جائے تو اس کا دھونا ضروری ہے لہٰذا اس بارے میں بھی سائل کا طریقہ کار درست ہے۔
وفی الہندیۃ : رفع الیدین بالتحریمۃ ونشر اصابعہ:وکیفیتہا اذا اراد الدخول فی الصلاۃ کبر ورفع یدیہ حذاء أذنیہ حتی یحاذی بابہامیہ شحمتی أذنیہ و برؤس الأصابع فروع أذنیہ کذا فی التبیین، قال الفقیہ أبو جعفر یستقبل ببطون کفیہ القلبۃ و نشر اصابعہ و یرفعہا فاذا استقرہا فی موضع محاذاۃ الابہامین شحمتی الاذنین یکبر قال الشمس الأئمۃ السرخسی علیہ عامۃ الأئمہ۔(کذا فی المحیط: ج۱، ص۷۳)۔
وفی الہدایۃ: ولیس فی المذی والودی غسل وفیہما الوضوء لقولہ علیہ السلام کل فحل یمذی وفیہ الوضوء والودی الغلیظ من البول یتعقب الرقیق منہ خروجا فیکون معتبرا بہ والمنی حاثر ابیض ینکسر منہ الذکر والمذی رقیق یضرب الٰی البیاض یخرج عنہ ملاعبۃ الرجل اہلہ۔( ج۱، ص۳۳)۔