کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مرد حضرات کیلئے قبرستان جانے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ اسی طرح مسنون عمل کیا ہے؟ نیز کن ایام میں قبرستان جانا اولیٰ ہے؟
اسی طرح عورتوں کا قبرستان جانا کیسا ہے؟ اگر درست ہے تو ان کے لئے کون سے اعمال کرنا بہتر ہے؟
تیسری بات یہ ہے کہ نمازِ جنازہ کے بعد دعا کا ثبوت ہے یا نہیں؟ اگر ثابت نہیں ہے تو مندرجہ ذیل احادیث کا کیا مطلب ہے؟
(۱) سننِ بیہقی جلد۴ صفحہ ۴۲ میں ہے: حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰؓ نے اپنی لڑکی کی نماز جنازہ پڑھائی اس کے بعد دعا کی اور فرمایا کہ ایسا ہی رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔
(۲) شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے اپنی کتاب فتح ربانی جلد ۷ صفحہ ۱۳۶ میں بھی یہی تحریر فرمایا۔
(۳) مسلم شریف جلد ۲ صفحہ ۳۰۳ میں ہے: عبید بن عامرؓ کی وفات پر حضور ﷺ نے ہاتھ اُٹھاکر دعاءِ خیر کی، اسی صفحہ پر موجود ہے کہ آپ ﷺ نے ابو موسیٰ اشعریؓ کے کہنے پر دوبارہ دعا فرمائی۔
از راہِ کرم مذکورہ مسائل کو ادلۂ شرعیہ سے واضح فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً
(۱) مرد حضرات کیلئے زیارتِ قبور کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ حسبِ موقع قبرستان میں داخل ہوکر ’’السلام علیکم دار قوم مؤمنین وانا إن شاء اللہ بکم لاحقون‘‘ کہے، پھر میت کے قدموں کی جانب سے داخل ہو کر میت کے چہرے اور سامنے کی طرف آکر کھڑا ہوجائے یا بیٹھ جائے اور اس کے لئے سورۃِ یٰس، آیۃ الکرسی، سورۃِ فاتحہ پڑھ کر ایصالِ ثواب کرے اور قبلہ کی طرف منہ کرکے،ہاتھ اُٹھاکر اور اگر عقیدۂ عوام کے فساد کا اندیشہ ہو تو پھر بغیر ہاتھ اُٹھائے دعاءِ مغفرت کرے، ہفتہ میں ایک بار زیارتِ قبورت کیلئے جانا چاہیئے جبکہ جمعہ کے دن جانا افضل ہے۔
(۲) عورتوں کیلئے قبرستان جانا جائز ہے بشرطیکہ کسی محرم کی معیت میں اور پردۂ شرعی کو ملحوظ رکھتے ہوئے جائیں اور وہاں جاکر بھی کسی غیر شرعی امر کا ارتکاب اور جزع فزع نہ کریں اور نہ ان کے جانے میں کسی قسم کے فتنہ کا اندیشہ ہو، ورنہ ان پر احتراز واجب ہے۔
(۳) نمازِ جنازہ چونکہ خود دعا ہے میت کیلئے، اس لئے نمازِ جنازہ کے بعد متصل دوبارہ التزاماً دعاء کرنا جیسا کہ رائج ہے شرعاً جائز نہیں بلکہ حضراتِ فقہاءِ کرام نے اس کو بدعت قرار دیا ہے، اس لئے کہ قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر میں اس کا ثبوت نہیں ہے۔
جبکہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰؓ کی روایت عدمِ رفع الایدی پر محمول ہے اور مسلم شریف کی روایت کا جنازہ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
فی رد المحتار : وبزیارۃ القبور أی لا بأس بل تندب کما فی البحر(الی قولہ)وقال فی شرح لباب المناسک إلا أن الافضل یوم الجمعۃ والسبت والاثنین والخمیس(الی قولہ)فتحصل أن یوم الجمعۃ أفضل اھـ وفیہ ثم من آداب الزیارۃ ما قالوا من أنہ یأتی الزائر من قبل رجلی المتوفی لامن قبل رأسہ لأنہ أتعب لبصر المیت اھـ(ج۲، ص۲۴۲)۔
و فی الدر: ویقول السلام علیکم دار قوم مؤمنین وانا إن شاء اللہ بکم لاحقون ویقرأ یٰسین الخ۔اھـ(ج۲، ص۲۴۲)۔
و فی رد المحتار : قولہ للنساء وقیل تحرم علیہن والأصح أن الرخصۃ ثابتۃ لہن بحر( الی قولہ) وقال الخیر الرملی: ان کان ذٰلک لتجدید الحزن والبکاء والندب علی ماجرت بہ عادتہن فلا تجوز وعلیہ حمل حدیث ’’لعن اللہ زائرات القبور‘‘ وان کان للاعتبار والترحم من غیر بکاء والتبرک بزیارۃ القبور الصالحین فلا بأس إذا کن عجائز ویکرہ إذا کن شواب کحضور الجماعۃ فی المساجد۔ اھـ (ج۲، ص۲۴۲)۔
و فی البدائع: ولیس فی ظاہر المذہب بعد تکبیرۃ الرابعۃ دعاء سوی السلام۔ اھـ(ج۱، ص۳۱۳)۔
و فی خلاصۃ الفتاویٰ: ولا یقوم بالدعاء بعد صلوٰۃ الجنازۃ۔ اھـ(ج۱، ص۲۲۵)۔
و فی المرقاۃ شرح المشکوٰۃ: ولا یدعوا للمیت بعد صلوٰۃ الجنازۃ لأنہ یشبہ الزیادۃ فی صلوٰۃ الجنازۃ (رواہ أبوداؤد)۔ اھـ (ج۴، ص۱۷۰)۔
گھر میں میت کے ہوتے ہوئے قرآنِ کریم یا کلمے وغیرہ پڑھنے کا اہتمام کرنا
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0شادی شدہ عیسائی عورت کا اسلام قبول کرنے کے بعد کسی مسلمان سےنکاح کا حکم اور اس کا شرعی طریقہ
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 1قادیانی عورت کے اسلام قبول کرنے کے بعد ،کسی مسلمان سے نکاح کیلۓ توقف کا دورانیہ
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0زیارتِ قبور کے لۓ قبرستان جانے کے آداب ، نیز کن ایام میں جانا اولیٰ ہے؟
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0کیا نومسلمہ کے احکامِ اسلام پر عمل نہ کرنے سے ایمان ختم ہوجاتا ہے؟؟
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0