کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پہلے ہماری برادری میں کوئی فوت ہو جاتا تو اس کے گھر والے برادری اور مہانوں کی روٹی پکاتے تھے، پھر ہماری برادری والوں نے فیصلہ کیا کہ ہر مہینے میں ہر گھر سے ۳۰ روپے لیے جائیں، تاکہ جب بھی کسی گھر میں کوئی فوت ہوجائے تو ان اجتماعی پیسوں سے روٹی پکائی جائے تاکہ اُس دن جن کے گھر آدمی فوت ہوا ہے ان کو روٹی کی پریشانی نہ ہو، اس اجتماعی پیسوں سے جو روٹی پکائی جاتی ہے،ا س سے گاؤں کے برادری والوں کو روٹی کھانا کیسا ہے؟ جائز ہے یا نہیں؟ مہربانی فرماکر قرآن و حدیث کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔
سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگرکوئی شخص فوت ہو جاتا ہے تو اہلِ میت آنے والے مہمانوں اور تمام برادری کے لیے کھانے کا انتظام کرتےہیں، جیسا کہ بعض علاقوں میں اس کھانے کو خیرات کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور عموماً مرنے والے کے مال سے تیار کیا جاتا ہے، اور اب اس کھانے کا انتظام اجتماعی رقم سے کیا جاتا ہے، اگر سائل کی مراد بھی یہی ہے اور وہ اسی مسئلہ کا حکمِ شرعی معلوم کرنا چاہتا ہے تو واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ میں اس طرح کے کھانے کا کوئی ذکر نہیں اور نہ قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے اس کا ثبوت ملتا ہے، بلکہ یہ طریقہ بدعتِ قبیحہ ہونے کے ساتھ کئی ایک مفاسد کو بھی متضمن ہونے وجہ سے واجب الترک ہے۔
لہٰذا اس سلسلہ کے منتظمین پر لازم ہے کہ مذکور رسم اور بدعت کے نام پر اب تک جتنے لوگوں سے جو پیسے لیے ہیں اور وہ اُن کے پاس موجود ہیں، وہ ہر صاحب حق کو واپس کریں، اور اب تک جو گناہ ہوا ہے اس پر توبہ و استغفار کریں اور آئندہ کے لیے اس قسم کی بدعاتِ قبیحہ کے ایجاد سے مکمل احتراز بھی کریں۔
البتہ اگر کوئی قرابت دار یا اہلِ محلہ میں سے ،فوتگی والے دن اہلِ میت کے لیے کھانے وغیرہ کا انتظام کرے تو یہ عمل بلاشبہ جائز اور مستحب ہے اور ایسے ہی کرنا چاہیے۔
ففی رد المحتار: وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. (2/240)۔
وفی سنن الترمذي: عن عبد الله بن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر، قال النبي - صلى الله عليه وسلم - : اصنعوا لأهل جعفر طعاما، فإنه قد جاءهم ما يشغلهم. هذا حديث حسن، وقد كان بعض أهل العلم يستحب أن يوجه إلى أهل الميت شيء لشغلهم بالمصيبة۔ اھ (2/ 314)-
و فی الموسوعة الفقهية: فَقَدِ اتَّفَقَ الْفُقَهَاءُ عَلَى أَنَّهُ: يُسْتَحَبُّ لِجِيرَانِ أَهْل الْمَيِّتِ وَالأَْقَارِبِ الأَْبَاعِدِ تَهْيِئَةُ طَعَامٍ لَهُمْ، يُشْبِعُهُمْ يَوْمَهُمْ وَلَيْلَتَهُمْ، لِقَوْل رَسُول اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : اصْنَعُوا لأَِهْل جَعْفَر طَعَامًا، فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ، وَلأَِنَّهُ بِرٌّ وَمَعْرُوفٌ، وَفِيهِ إِظْهَارُ الْمَحَبَّةِ وَالاِعْتِنَاءِ.(44/ 9) واللہ أعلم
گھر میں میت کے ہوتے ہوئے قرآنِ کریم یا کلمے وغیرہ پڑھنے کا اہتمام کرنا
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0شادی شدہ عیسائی عورت کا اسلام قبول کرنے کے بعد کسی مسلمان سےنکاح کا حکم اور اس کا شرعی طریقہ
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 1قادیانی عورت کے اسلام قبول کرنے کے بعد ،کسی مسلمان سے نکاح کیلۓ توقف کا دورانیہ
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0زیارتِ قبور کے لۓ قبرستان جانے کے آداب ، نیز کن ایام میں جانا اولیٰ ہے؟
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0کیا نومسلمہ کے احکامِ اسلام پر عمل نہ کرنے سے ایمان ختم ہوجاتا ہے؟؟
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0