کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام بیچ اس مسلہ کہ اگر بکرنےصدقات کی رقم زید کے اکاؤنٹ میں رکھی ہوئی ہو تو کیا با امر مجبوری زید اس رقم کو ذاتی استعمال میں لا سکتا ہے اس شرط کے ساتھ کے جب صدقات کے مصرف کے لئیےضرورت ہو گی تو اس وقت واپس کر دیا جائے ?یا کسی اور شراط کے ساتھ کوئی گنجائش استعمال کر سکتے ہیں ? برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں,
واضح ہو کہ اکاونٹ میں صدقہ کی رکھی ہوئی رقم کی حیثیت امانت کی ہے، اور امانت میں اصل مالکان کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا خیانت کے زمرے میں آتاہے، جو شرعاجائز نہیں۔ اس لیے اگر زید کے اکاونٹ میں صرف صدقہ کی رقم ہو، تو اسے حدالامکان اسے اپنے ذاتی استعمال میں لانے احتیاط کرنا چاہیے، تاہم اگر وہ کسی بھی وقت اس رقم کو استعمال کرلے، تو استعمال کی وجہ سے یہ امانت کے حکم سے نکل زید اس رقم کے ضامن بنے گا، اور یہ رقم اس کے ذمہ قرض ہوگی، جو بکر کے مطالبہ کرنے پر اسے اداکرنا لازم ہوگا۔اور امانت میں خیانت کی وجہ سے توبہ واستغفار بھی لازم ہوگا۔
الفتاوى الهندية - (4/338):
"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه ، كذا في الشمني .الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن ، وإن فعل شيئا منها ضمن ، كذا في البحر الرائق ".
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0