السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ایک شخص نے اپنی دادی کا دودھ پیا ھو اور اسی شخص کا نکاح اسکی پھوپھو کی بیٹی سے کیا جائے تو کیا یہ جائز ھے۔
مدت رضاعت میں دادی کے دودھ پینے کی وجہ سے وہ بچہ اپنی دادی کا رضاعی بیٹا، اپنی تمام پھوپھیوں کا رضاعی بھائی اور پھوبھی زاد بہنوں کا رضاعی ماموں بن چکاہے، اور جس طرح حقیقی ماموں اور بھانجی کا نکاح شرعاجائز نہیں اسی طرح رضاعی ماموں اور بھانجی کا نکاح بھی شرعاجائز نہیں۔ اس لیے مذکورشخص کا اپنی پھوپھی زاد بہن(رضاعی بھانجی) کے ساتھ نکاح شرعادرست نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔
کمافی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 31)
(و) حرم (الكل) مما مر تحريمه نسبا، ومصاهرة (رضاعا) إلا ما استثني في بابه.
(قوله: نسبا) تمييز عن نسبة تحريم للضمير المضاف إليه، وكذا قوله: مصاهرة، وقوله: رضاعا تمييز عن نسبة تحريم إلى الكل، يعني يحرم من الرضاع أصوله وفروعه وفروع أبويه وفروعهم، وكذا فروع أجداده وجداته الصلبيون، وفروع زوجته وأصولها وفروع زوجها وأصوله وحلائل أصوله وفروعه۔
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0