ہم نے دس سال پہلے سرکاری دفاعی سرٹیفکیٹ خریدے تھے، اور ان کے منافع تقریباً ایک لاکھ روپے ہوئے، جیسا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ سود ہے اور اسلام میں حرام ہے تو اس رقم کے ساتھ میں کیا کروں؟ کیا میں اسے کسی حاجت مند مسلمان کے حوالے کردوں یا کوئی اور جائز صورت اسلام میں ہے ؟ برائے مہربانی جلد از جلد تفصیلی بیان سے مطلع فرمائیں ۔
سودی رقم کو اپنے استعمال میں لانا یا اجر و ثواب کی غرض سے کسی دوسرے کو دینا جائز نہیں، بلکہ کسی مستحق زکوٰۃ کو بغیر ثواب کی نیت کے دے دینا لازم ہے اور آئندہ کے لیے سودی معاملہ کو بھی ختم کرنا بھی لازم ہے ، تاہم مذکور دفاعی سرٹیفکیٹ اور اس کے کا طریقہ کار سے متعلق اگر تفصیل لکھ دی جائے تو ان شاء اللہ اس کے حکم شرعی سے بھی آگاہ کر دیا جائیگا۔
ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ (6/ 385)
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1