السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
1۔ہجرت کب لازم ہے؟ اور ہجرت کب ختم تصور کیا جاتا ہے؟ 2۔رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تھی ؟ کیا وہ فتحِ مکہ کے بعد واپس مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تھے؟ اگر نہیں تو کیا وجہ تھی؟
3۔ اگر ایک خاندان یا شخص کسی ملک سے دوسرے ملک صرف اپنی جان اور اولاد کی آبرو و روح کے تحفظ کی خاطر ہجرت کرے تو شریعتِ محمدی کی رو سے کب ان کی ہجرت اختتام کو پہنچے گی؟ یا اس شخص و خاندان کو شریعت کب اپنے وطن جانے کا حکم یا اختیار دیتی ہے؟
مطلوبہ مسائل کے تمام پہلوؤں کے احکام قدرے تفصیل سے بیان کیے جائیں جس سے شرحِ صدر ہوکر تشفی ہو جائے، جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ جب کسی مسلمان کیلئے اپنے علاقہ میں وہاں کے ظالم و جابر حکمران اور رعایا کی وجہ سے دین پر عمل کرنا مشکل ہو جائے اور دوسری جگہ اپنے دین کی حفاظت ہو سکتی ہو اور وہاں جانے کی استطاعت بھی ہو تو اس جگہ سے دین کی خاطر ہجرت کرنا ضروری ہے، اور جب تک یہ سلسلہ ختم نہیں ہو جاتا، تب تک دوبارہ اس علاقہ میں رہائش اختیار کرنا درست نہیں، البتہ اگر اپنے علاقہ میں دوبارہ امن بحال ہو جائے تو اسکی طرف لوٹنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
جہاں تک ابتداءِ اسلام میں ہجرت کا تعلق ہے تو اس وقت چونکہ کفارِ قریش وغیرہ نے اہلِ ایمان کا جینا دو بھر کر دیا تھا اور اپنے ایمان اور ارکانِ اسلام پر قائم رہنا مشکل ترین ہو گیا تھا، اس لئے صاحبِ استطاعت مسلمانوں کیلئے ہجرت فرض قرار دی گئی تھی، اور اسکو ایمان کی علامت قرار دیا گیا تھا ، چنانچہ تقریباً تمام صاحبِ استطاعت صحابۂ کرامؓ مکہ سے ہجرت کرکے حبشہ اور مدینہ منورہ کی طرف تشریف لے گئے تھے، البتہ فتحِ مکہ کے موقع پر انصارِ صحابۂ کرامؓ آپس میں یہ گفتگو کر رہے تھے کہ مکہ مکرمہ آپ علیہ السلام کی جائے پیدائش ہے تو آپ ﷺ دوبارہ اپنی رہائش مکہ میں اختیار کریں گے،آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے اس بات کا علم ہوا ، اور انصار صحابۂ کرامؓ کے غم کا پتہ چلا تو اُنکی دلجوئی کی خاطر آپ ﷺ نے فرمایا "ا لمحیا محیاکم و الممات مماتکم" کہ اب جینا مرنا آپ کے ساتھ ہے"، اس لئے آپ ﷺ فتحِ مکہ کے باوجود دوبارہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔
کما فی صحيح مسلم : قال رسول الله ﷺ: «يا معشر الأنصار» قالوا : لبيك يا رسول الله ، قال : " قلتم أما الرجل فأدركته رغبة في قريته ؟ " قالوا قد كان ذاك ، قال «كلا ، إني عبد الله و رسوله ، هاجرت إلى الله و إليكم ، و المحيا محياكم و الممات مماتكم» ، فأقبلوا إليه يبكون و يقولون و الله ، ما قلنا الذي قلنا إلا الضن بالله و برسوله۔الحدیث (3/1405)۔
و فی فتح الباری : و کانت الھجرة إذ ذاك تختص بالانتقال إلى المدينة إلى أن فتحت مكة فانقطع الاختصاص۔اھ (8/26)۔
و فیه ایضاً : (ثلاث للمھاجر بعد الصدر) (إلی قوله) وقفه هذا الحديث أن الأقامة بمكة كانت حراما على من هاجر منھا قبل الفتح ، لكن ابیح لمن قصدها منھم بحج و عمرة أن يقيم بعد قضاء نسكه ثلاثة أيام لا يزيد عليها (إلى قوله) قال النووىؒ معنى هذا الحديث أن الذين هاجروا يحرم عليهم استيطان مكة (إلى قوله) فحملوا هذا القول على الزمن الذی كانت الھجرة المذكورة واجبة فيه قال و اتفق الجميع على أن الھجرة قبل الفتح كانت واجبة عليھم و أن سكنى المدينة كان واجبا لنصرة النبیﷺ و مواساته بالنفس (إلى قوله) و هل ينبنی علیه خلاف فيمن فر بدينه من موضع يخاف أن يفتن فيه في دينه فھل له أن يرجع اليه بعد القضاء تلك الفتنة ؟ يمكن أن يقال إن کان ترکھا لله كما فعله المھاجرون فليس له أن يرجع لشيئ من ذلك و إن كان ترکھا فرارا بدينه ليسلم له و لم يقصد إلى تركھا فله الرجوع إلى ذلك انتھی۔اھ(7/34)۔
و فی التفسيرات الاحمدیة : ألم تکن ارض الله واسعة فتها جروا فيها (إلی قوله) أن الآية تدل على أن من لم يتمكن من إقامة دينه فى بلده كما يجب و علم أنه يتمكن إقامته في غيره حقت عليه المهاجرة و فى الحديث من فر بدينه من أرض إلى أرض و إن كان شبراً من الارض استوجبت له الجنة و كان رفيق أبيه أبراهيم و نبیه محمد صلوات الله علیھم أجمعین۔اھ (1/304)۔
و فیه ایضاً : و في هذا الزمان إن لم يتمكن من إقامة دينه بسبب أيدى الظلمة او الكفرة يفرض عليه الھجرة رحمن و هو الحق۔اھ (1/305)۔