میرا یہ عقیدہ ہے کہ محمد اور تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو حیاتِ برزخی حاصل اور اللہ پاک اپنی قدرت سے ان کو درود و سلام سنواتے ہیں،انبیاءعلیہم الصلوۃ والسلام کی شان ہے کہ ان کے اجسادِ مبارکہ اپنے قبور میں صحیح و سالم ہیں، اور ان کی وراثت اس لئے تقسیم نہیں ہوئی کہ انبیاء کی وراثت علم ہوا کرتی ہے اور وہ علم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر آج تک علماء کی صورت میں ہے، جس کے ابھی علماء ہی وارث ہیں، تو کیا میرا یہ عقیدہ درست ہے۔
سائل کا سوال میں ذکر کردہ عقیدہ درست اور اہلِ سنت والجماعت کے عقیدہ کے مطابق ہے۔
کما فی فتح الباري لابن حجر : قُلْتُ وَإِذَا ثَبَتَ أَنَّهُمْ أَحْيَاءٌ مِنْ حَيْثُ النَّقْلِ فَإِنَّهُ يُقَوِّيهِ مِنْ حَيْثُ النَّظَرِ كَوْنُ الشُّهَدَاءِ أَحْيَاءٌ بِنَصِّ الْقُرْآنِ وَالْأَنْبِيَاءُ أَفْضَلُ مِنَ الشُّهَدَاءِ وَمِنْ شَوَاهِدِ الْحَدِيثِ مَا أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ وَقَالَ فِيهِ وَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ سَنَدُهُ صَحِيحٌ وَأَخْرَجَهُ أَبُو الشَّيْخِ فِي كِتَابِ الثَّوَابِ بِسَنَدٍ جَيِّدٍ بِلَفْظِ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي سَمِعْتُهُ وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ نَائِيًا بُلِّغْتُهُ (6/ 488)۔
و فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح : (وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ومن صلى علي عند قبري سمعته» ) : أي [سمعا] حقيقيا بلا واسطة، قال الطيبي: هذا لا ينافي ما تقدم من النهي عن الاعتياد الدافع عن الحشمة، ولا شك أن الصلاة في الحضور أفضل من الغيبة. انتهى، لأن الغالب حضور القلب عند الحضرة والغفلة عند الغيبة، (" ومن صلى علي نائيا ") ، أي: من بعيد كما في رواية: أي بعيدا عن قبري (" أبلغته ") : وفي نسخة صحيحة: بلغته من التبليغ، أي: أعلمته كما في رواية(2/ 749)۔
و فی فتح الباري لابن حجر : وَعِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ وَصَحَّحَهُ بن خُزَيْمَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ رَفَعَهُ فِي فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَّمْتَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ(6/ 488) ۔
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1