مفتی صاحب! ایک بندہ ہے وہ اپنے اصلی وطن سے بچے لے کر دوسرے شہر جاتا ہے، وہاں اپنے بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے، لیکن وہ ۱۵ دن سے پہلے پہلے اپنے وطنِ اصلی جاتا رہتا ہے، آیا وہ قصر نماز اصلی وطن میں پڑھے گا یا وطن عارضی میں؟
شخص مذکور نے وطنِ اقامت میں اگر کبھی پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت نہ کی ہو تو وہ وطنِ اقامت میں جب وہ اپنی انفرادی نماز پڑھے تو قصر کرےگا ، جبکہ وطنِ اصلی میں پوری نماز پڑھنا اس پر لازم ہوگا۔
ففی الدر المختار: حتى يدخل موضع مقامه أو ينوي إقامة نصف شهر بموضع صالح لها فيقصر إن نوى في أقل منه أو نوى لكن في غير صالح بموضعين مستقلين كمكة ومنى أو لم يكن مستقلا برأيه أو دخل بلدة ولم ينوه بل ترقب السفرولو بقي سنين اھ(2/ 124تا 126)
وفي رد المحتار: (قوله يبطل بمثله) سواء كان بينهما مسيرة سفر أو لا، ولا خلاف في ذلك كما في المحيط قهستاني، وقيد بقوله بمثله لأنه لو انتقل منه قاصدا غيره ثم بدا له أن يتوطن في مكان آخر فمر بالأول أتم لأنه لم يتوطن غيره نهر. اھ(2/ 132)
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4