یہ کہنا کیسا ہے کہ انبیاءِ کرام عام انسان ہے اور ان سے بھی گناہ ہو سکتا ہے۔
واضح ہو کہ انبیاءِ کرام علیہم السلام مقدس شخصیات اور افضل البشر ہیں ان کو عام انسانوں کی طرح سمجھنا اور ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ ان سے بھی گناہ ہو سکتے ہیں، درست نہیں، بلکہ جہالت اور دین سے دوری پر مبنی ہے، کیونکہ اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ انبیاءِ کرام علیہم السلام گناہوں سے پاک ہوتے ہیں، اس لئے سوال میں مذکور الفاظ کے استعمال سے احتراز لازم ہے۔
كما في شرح الفقه الأكبر لملا على قارى: ( والانبياء عليهم الصلاة والسلام كلهم منزھون عن الصغائر والكبائر والكفر والقبح ) ثم هذه العصمة ثابتة للانبياء قبل النبوة وبعدها علی الاصح (ص : 57) ۔
وفي شرح العقائد النسفية: وفي هذا اشارة الى ان الانبياء معصومون عن الكذب خصوصا فيما يتعلق بامر الشرائع وتبليغ الاحكام وارشاد الامة (ص : 140) ۔
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1