السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام و علماءِ عظام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ حضرت ہمارا ایک تجارت کا مسئلہ ہے، اس کی نوعیت اس طرح ہے کہ ایک آدمی کا ایک کارخانہ ہے، جس میں وہ چیزوں کو بناتا ہے ،جیسے پریشر کوکر، استری وغيرہ ، وہ لوگوں کو اس میں شرکت کی دعوت دیتا ہے کہ اگر ایک لاکھ دو گے تو پانچ ہزار ملے گا یعنی ایک لاکھ کا پانچ فیصد مقرر کرتا ہے، اور پانچ سال بعد ان کا وہ basic amount بھی واپس ہو گا، تو ہم نے ان سے کہا اس طرح تو یہ سود کی شکل اختیار کر رہا ہے کہ آپ percent متعین کر رہے ہے اور آپ principal amount پرہی٪ 5 دے رہے ہو؟ تو انہوں نے وہاں سے کہا کہ اصل میں ہم منافع میں حصہ دیتے ہیں، وہ اس طرح ہے کہ میں جو سامان بناتا ہوں، اس میں ہم نے %10 کا منافع رکھا ہے اور اس %10 کے منافع میں ہمیں 3 گاڑی، مزدور وغیرہ میں خرچ ہوتے ہیں اور %2 میں اپنے لئے رکھتا ہوں اور بقیہ %5 اپنے شریک کو دیتا ہوں ، ہاں کبھی %10 کے بجائے٪ 12 کا بھی منافع ہوتا ہے ،اس وقت میں 12 میں سے 2 فیصد جمع کرتا ہوں تا کہ کبھی خدا نہ کرے نقصان ہو تو اس % 2 سے بھرپائی کرتا ہوں اور شریک کو برابر اس کے %5 ملتے ہیں اور اگر کبھی حالات خراب ہونے کی وجہ سے کمائی نہ ہو تو اس وقت کچھ بھی نہیں ملے گا، کیونکہ جب بکری ہی نہ ہوئی تو دوسروں کو کیا دوں گا ؟ اسی لئے میں سب کو سیدھے کہتا ہوں آپ کو 5 فیصد یا پانچ ہزار ملے گا لاکھ میں؟
نوٹ: یہ منافع Basic amount سے نہیں ملتا ہے ؟ اب عرض یہ ہے کہ کیا اس طرح کا کاروبار شرع میں جائز ہے ؟ اگر نہیں، تو جائز ہونے کی بھی صورت تفصیلات کے ساتھ بتا ئیں۔
مذکور کار خانہ اگر با قاعدہ حکومتی سطح پر بطور انویسمنٹ رجسٹر ڈ ہو اور مذکور شخص کو عوام الناس سے پیسے لیکر کاروبار کرنے کی اجازت بھی ہو ، تب بھی چونکہ منافع کا جو طریقہ کار ذکر کیا گیا ہے، وہ کاروبار میں ہونے والے حقیقی منافع کے تناسب سے نہیں، بلکہ لوگوں کے جمع کر دہ سرمایہ کے حساب سے ہے، جو کہ شرعاً نا جائز اور حرام ہے، البتہ اگر لوگوں کی طرف سے جمع کردہ سرمایہ کے بجائے کاروبار میں ہونے والے حقیقی منافع کے مطابق نفع کی تقسیم کے لئے کوئی فیصدی تناسب مقرر کیا جائے تو یہ معاملہ شرعاً بھی جائز ہو جائے گا، لیکن اس میں سرمایہ کاری کرنے سے قبل یہ تحقیق کر لینا ضروری ہے کہ یہ کارو بار با قاعدہ حکومتی سطح پر رجسٹر ڈ ہو اور اسے لوگوں سے کاروبار کے لئے رقم لینے کی اجازت بھی ہو یعنی اس شخص کو گور نمنٹ نے مضاربہ سر ٹیفکیٹ دیدی ہوں، تاکہ کسی قسم کے دھوکہ اور فراڈ کی نوبت پیش نہ آجائے۔
كما في الدر المختار: (وَشَرْطُهَا) أَيْ شَرِكَةِ الْعَقْدِ كَوْنُ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ قَابِلًا لِلْوَكَالَةِ فَلَا تَصِحُ فِي مُبَاحٍ كَاحْتِطَابٍ وَعَدَمُ مَا يَقْطَعُهَا كَشَرْطِ دَرَاهِمَ مُسَمَّاةٍ مِنْ الربح لِأَحَدِهِمَا لِأَنَّهُ قَدْ لَا يَرْبَحُ غَيْرُ الْمُسَمَّى اھ (4 /305)۔
وفيه ايضاً: (وَتَفْسُدُ بِاشْتِرَاطِ دَرَاهِمَ مُسَمَّاةٍ مِنْ الرِّبحِ لِأَحَدِهِمَا لِقَطْعِ الشَّرِكَةِ كَمَا مَرَّ لَا لِأَنَّهُ شَرْطٌ لِعَدَمٍ فَسَادِهَا بِالشَّرْطِ، وَظَاهِرُهُ بُطْلَانُ الشَّرْطِ لَاالشَّرِكَةِ بَحْرٌ وَمُصَنَّفٌ. قُلْت: صَرَّحَ صَدْرُ الشَّرِيعَةِ وَابْنُ الْكَمَالِ بِفَسَادِ الشَّرِكَةِ وَيَكُونُ الرِّيحُ عَلَى قَدْرِ المالِ اھ (4 / 316)
وفي رد المحتار: (قَوْلُهُ: وَمَعَ التَّفَاضُلِ فِي الْمَالِ دُونَ الرِّبحِ أَي بِأَنْ يَكُونَ لِأَحَدِهِمَا أَلْفُ وَلِلْآخَرِ أَلْفَانِ مَثَلًا وَاشْتَرَطَا التَّسَاوِي فِي الرِّبحِ، وَقَوْلُهُ وَعَكْسُهُ: أَيْ بِأَنْ يَتَسَاوَى الْمَالَانِ وَيَتَفَاضَلَا فِي الرِّبحِ، لَكِنَّ هَذَا مُقَيَّدٌ بِأَنْ يُشْتَرَطَ الْأَكْثَرُ لِلْعَامِلِ مِنْهُمَا أأَوْ لِأَكْثَرِهَا عَمَلًا، أَمَّا لَوْ شَرَطَاهُ لِلْقَاعِدِ أَوْ لِأَفَلَهِمَا عَمَلًا فَلَا يَجُوزُ كَمَا فِي الْبَحْرِ عَنْ الزَّيْلَعِي وَالْكَمَالِ. قُلْت: وَالظَّاهِرُ أَنَّ هَذَا مَحْمُولٌ عَلَى مَا إِذَا كَانَ الْعَمَلُ مَشْرُوطًا عَلَى أَحَدِهِمَا.
وَفِي النَّهْرِ: اعْلَمْ أَنَّهُمَا إِذَا شَرَطًا الْعَمَلَ عَلَيْهِمَا إِنْ تَسَاوَيَا مَالًا وَتَفَاوَنَا رِدْحًا جَازَ عِنْدَ عُلَمَائِنَا الثَّلَاثَةِ خِلَافًا لِزُفَرَ وَالرِّبْحُ بَيْنَهُمَا عَلَى مَا شَرَطًا وَإِنْ عَمِلَ أَحَدُهُمَا فَقَطْ؛ وَإِنْ شَرَطَاهُ عَلَى أَحَدِهِمَا، فَإِنْ شَرَطًا الرِّبحِ بَيْنَهُمَا بِقَدْرِ رَأْسِ مَالِهِمَا جَازَ، وَيَكُونُ مَالُ الَّذِي لَا عَمَلَ لَهُ بِضَاعَةً عِنْدَ الْعَامِلِ لَهُ رِبحُهُ وَعَلَيْهِ وَضِيعَتُهُ، وَإِنْ شَرَطًا الرِّبحِ لِلْعَامِلِ أَكْثَرَ مِنْ رَأْسِ مَالِهِ جَازَ أَيْضًا عَلَى الشَّرْطِ وَيَكُونُ مَالُ الدَّافِعِ عِنْدَ الْعَامِلِ مُضَارَبَةً، وَلَوْ شَرَطًا الرِّبحِ لِلدَّافِعِ أَكْثَرَ مِنْ رَأْسِ مَالِهِ لَا يَصِحُ الشَّرْطُ وَيَكُونُ مَالُ الدَّافِعِ عِنْدَ الْعَامِلِ بِضَاعَةً لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا رِبْحُ مَالِهِ وَالْوَضِيعَةُ بَيْنَهُمَا عَلَى قَدْرِ رَأْسِ مَالِهِمَا أَبَدًا هَذَا حَاصِلُ مَا فِي الْعِنَايَةِ اهـ مَا فِي النَّهْرِ.
قُلْت: وَحَاصِلُ ذَلِكَ كُلِّهِ أَنَّهُ إِذَا تَفَاضَلَا فِي الرِّبحِ ، فَإِنْ شَرَطًا الْعَمَلَ عَلَيْهِمَا سَوِيَّةٌ جَازَ: وَلَوْ تَبَرَّعَ أَحَدُهُمَا بِالْعَمَلِ وَكَذَا لَوْ شَرَطًا الْعَمَلَ عَلَى أَحَدِهِمَا وَكَانَ الرِّبحِ لِلْعَامِلِ بِقَدْرِ رَأْسِ مَالِهِ أَوْ أَكْثَرَ وَلَوْ كَانَ الْأَكْثَرُ لِغَيْرِ الْعَامِلِ أَوْ لِأَقَلِّهِمَا عَمَلًا لَا يَصِحُ وَلَهُ رِبْحُ مَالِهِ فَقَدْ، وَهَذَا إِذَا كَانَ الْعَمَلُ مَشْرُوطًا كَمَا يُفِيدُهُ قَوْلُهُ إِذَا شَرَطًا الْعَمَلَ عَلَيْهِمَا اھ ( ج / ص / 312)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0