نکاح

کیا صحتِ نکاح کیلئے ظاہری رضا مندی کافی ہے؟

فتوی نمبر :
44395
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا صحتِ نکاح کیلئے ظاہری رضا مندی کافی ہے؟

اگر نکاح کیلئے لڑکی اور لڑکا رضامند نہ ہوں اور گھر والوں کے دباؤ میں آکر نکاح کے وقت ”ہاں“ بول دیں تو کیا نکاح جائز ہو گا؟ اور شادی کے بعد بھی دونوں میں انڈر اسٹینڈ نہ ہو سکے، اور جو اس دوران میاں بیوی کا رشتہ بنایا بھی جائے تو وہ اس لئے کے کوئی بچہ ہو جائے اور برائے نام ایک میاں بیوی کا رشتہ چلتا رہے، کیا یہ سب جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کی صحت کیلئے لڑکے اور لڑکی کی ظاہری رضامندی کافی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں لڑکا اور لڑ کی اگر چہ دلی طور پر اس رشتہ کیلئے آمادہ نہ تھے ، مگر جب انہوں نے گھر والوں کے کہنے پر رضامندی کا اظہار کر دیا تو یہ نکاح شرعاً منعقد ہو چکا ہے، اب دونوں کو چاہیئے کہ بہتر انداز میں اپنا گھر بسانے کی کوشش کریں، تاہم والدین کو بھی چاہیئے کہ اپنی اولاد کے رشتے طے کرتے وقت ان کی دلی رغبت کا بھی لحاظ رکھیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافي الدر المختار: (ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة (أو وكيله أو رسوله أو زوجها) وليها وأخبرها رسوله أو الفضولي عدل (فسكتت) عن رده مختارة (أو ضحكت غير مستهزئة أو تبسمت أو بكت بلا صوت) فلو بصوت لم يكن إذنا ولا ردا حتى لو رضيت بعده انعقد سراج وغيره، فما في الوقاية والملتقى فيه نظر (فهو إذن) أي توكيل في الأول إن اتحد الولي۔اھ (3/58)
وفی رد المحتار: (قوله: ليتحقق رضاهما) أي ليصدر منهما ما من شأنه أن يدل على الرضا إذ حقيقة الرضا غير مشروطة في النكاح لصحته مع الإكراه والهزل رحمتي۔اھ (3/21)
كما في بدائع الصنائع: ثم إن كانت ثيبا فرضاها يعرف بالقول تارة وبالفعل أخرى أما القول: فهو التنصيص على الرضا وما يجري مجراه نحو أن تقول: رضيت أو أجزت ونحو ذلك، والأصل فيه قوله ﷺ «الثيب تشاور» وقوله ﷺ «الثيب يعرب عنها لسانها» وقوله ﷺ «تستأمر النساء في أبضاعهن» وقوله ﷺ «لا تنكح اليتيمة حتى تستأمر» والمراد منه: البالغة. وأما الفعل: فنحو التمكين من نفسها والمطالبة بالمهر والنفقة ونحو ذلك لأن ذلك دليل الرضا والرضا يثبت بالنص مرة وبالدليل أخرى، والأصل فيه ما روي عن النبي ﷺ «أنه قال لبريرة إن وطئك زوجك فلا خيار لك» وإن كانت بكرا فإن رضاها يعرف بهذين الطريقين وبثالث وهو السكوت وهذا استحسان، والقياس أن لا يكون سكوتها رضا۔اھ (2/242)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 44395کی تصدیق کریں
0     444
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات