طبی معائنہ کی غرض سے شرمگاہ ( خواہ اگلی ہو یا پچھلی) میں انگلی، انگلیاں یا کوئی باریک کیمرہ وغیرہ داخل کرنے سے اُس عورت یا مرد پر غسل واجب ہو جائےگا یا نہیں؟ علاج کی غرض سے پیشاب یا پاخانے والی جگہ کے اندر کوئی ٹھوس دوا مثلاً کیپسول، گولی وغیرہ رکھنے یا مائع دوا مثلا ٹیوب، کریم، قطرات وغیرہ ڈالنے پر غسل اور وضو کا کیا حکم ہے؟َ
طبعی معائنہ کی غرض سے مرد و عورت کی اگلی یا پچھلی شرمگاہ میں محض کوئی ٹھوس یا مائع چیز داخل کرنے سے غسل واجب نہیں ہوتا، اور نہ ہی وضو لازم ہوتا ہے، البتہ اگر وہ کوئی ٹھوس چیز ہو اور شرمگاہ سے نکالنے کے بعد اس پر کوئی تری یا نجاست لگی ہوئی نکلے، تو اس سے مریض کا وضو ٹوٹ جائےگا، اسی طرح (پچھلی شرمگاہ میں ڈالی جانے والی چیز)اگر مائع چیز (مثلاً دواء وغیرہ) تھی تو محض اس کے واپس آنے سے وضو ٹوٹ جائےگا۔
ففی البحر الرائق: وكذا المحقنة إذا أدخلها ثم أخرجها إن لم يكن عليها بلة لا تنقض والأحوط أن يتوضأ كذا في منية المصلي وفي الخانية، وإذا أقطر في إحليله دهنا ثم عاد فلا وضوء عليه بخلاف ما إذا احتقن بدهن ثم عاد اهـ. (۱/ ۳۱)
وفیه أیضاً: لو أدخل إصبعه في دبره ولم يغيبها، فإنه يعتبر فيه البلة والرائحة، وهو الصحيح اهـ. (۱/ ۳۱)
وفی بدائع الصنائع: فالحدث هو نوعان: حقيقي، وحكمي أما الحقيقي فقد اختلف فيه، قال أصحابنا الثلاثة: هو خروج النجس من الآدمي الحي، سواء كان من السبيلين الدبر والذكر أو فرج المرأة اھ (۱/۲۴)
وفی فتاویٰ قاضی خان: ولو أدخل فی دبره شیئا وطرف منه خارج، فاخرجه لا وضوء علیه، قالوا تأویل هذا إذا لم تکن علیه بلة، فان کان نقض الوضوء اھ (۱/ ۳۷)