نکاح

سنی لڑکی کا اہلِ تشیع لڑکے سے نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
42193
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سنی لڑکی کا اہلِ تشیع لڑکے سے نکاح کرنے کا حکم

السلام علیکم!
مجھے اپنے نکاح کے حوالے سے ایک مسئلہ درپیش ہے،میں سنی ہوں اور میں جن سے نکاح کی خواہش مند ہوں وہ اہلِ تشیع سے تعلق رکھتے ہیں،ساتھ ساتھ بتاتی چلوں کہ ان کا وحدانیت کا عقیدہ وہی ہے جو ہر مسلمان کا ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے اور رسول پاک ﷺ اللہ کے آخری نبی اور پیغمبر ہیں،صحابہ کو گالی نہیں دیتے نہ ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں،میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ہمارا نکاح شرعی اعتبار سے جائز ہےیا نہیں؟اگر ہمارا نکاح جائز ہے تو کیا میں آپ سے میرے لئے فتوی لکھنے کی درخواست کرسکتی ہوں؟ اللہ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائیں۔آمین

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ شیعوں کے مختلف فرقے ہیں،اور ہر فرقہ اپنے عقائد ونظریات کی بنیاد پر حکم بھی مختلف رکھتا ہے،لہذا سائلہ جس شیعہ لڑکے سے نکاح کرنا چاہتی ہے،اگر وہ لڑکا فرقہ اثنا عشریہ سے تعلق رکھتا ہو یا قرآن کریم میں تحریف کا قائل ہو یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی تہمت کو درست مانتا ہو یا حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کا قائل ہو یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا قائل ہو یا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا منکر ہو یا اس قسم کا کوئی اور صریح کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو وہ شخص بلاشبہ کافر ہے،جب تک وہ اپنے کفریہ عقائد سے توبہ تائب ہوکر دائرۂ اسلام میں داخل نہ ہوجائے،اس وقت تک سائلہ کے لئے اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں،البتہ اگر وہ مندرجہ بالا عقائد نہ رکھتا ہو،فقط بدعات کا مرتکب ہو،تب بھی وہ سنی لڑکی کا کفؤ نہیں،اس لئے سائلہ کے لئے اولیاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر اس کے ساتھ نکاح درست نہیں،تاہم اولیاء کی اجازت سے بھی ایسے نکاح سے اجتناب کرے،تاکہ آنے والی نسلوں پر غلط اثرات نہ پڑیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر(3/ 46)۔
وفیہ أیضاً: أن الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما فهو كافر، وإن كان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع. اهـ. (4/ 237)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 42193کی تصدیق کریں
0     611
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات