المیزان میچول فنڈ اور میزان بینک میں سرمایہ کاری کرنا حلال ہے یا حرام؟ المیزان آفس کا اسٹاف کہتا ہے کہ ہم مفتی تقی عثمانی اور دوسرے علماء کے زیر اثر کام کرتے ہیں، ان کا یہ بھی دعوی ہے کہ المیزان میچول فنڈ اور میزان بینک اسلامی اصولوں کے مطابق کام کرتے ہیں، اور پھر منافع کسٹمرز میں تقسیم کرتے ہیں، کیا ان کا منافع حلال ہے ؟
ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک کے اکثر و بیشتر معاملات مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ ایڈوائزری بورڈ کی زیر نگرانی اسلامی اصولوں کے مطابق ہی انجام پاتے ہیں، لہذا میزان بینک اور اس کے میچول فنڈ میں انویسٹمنٹ کرنے اور اس پر نفع وصول کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0