نکاح

کیا رضاعی پھوپھی سے نکاح ہوسکتا ہے؟

فتوی نمبر :
40765
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا رضاعی پھوپھی سے نکاح ہوسکتا ہے؟

زید کی ایک بیوی تھی زینب، اس زینب سے زید کا ایک بیٹا ہے عمر ،زید کی اس بیوی کا انتقال ہوا ،انتقال کے بعد زید نے دوسری عورت کلثوم سے نکاح کیا، اس کلثوم نے زید کے پہلی بیوی یعنی زینب سے جو بیٹا تھا عمر، اس عمر کی خالہ زاد بہن فاطمہ کو مدت رضاعت میں دودھ پلایا اور عمر کا ایک بیٹا ہے کاشف تو کیا کاشف کا نکاح فاطمہ سے ہو سکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زید کی دوسری بیوی مسماۃ کلثوم کا دودھ اگر زید کی وجہ سے اتر آیا تھا تو ایسی صورت میں جب اس نے مدت رضاعت میں عمر کی خالہ زاد بہن مسماۃ فاطمہ کو دودھ پلایا تو مسماۃ فاطمہ عمر کی رضاعی بہن ، اور عمر کے بیٹے مسمیٰ کاشف کی رضاعی پھو پھی بن چکی ہے ، لہذا کاشف کا نکاح اپنی رضاعی پھو پھی فاطمہ سے شر عادرست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 40765کی تصدیق کریں
0     597
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات