میرا ایک دوست زمین بیچتا ہے آج اس کا ریٹ کم ہے عید کے بعد زیادہ ملے گا، اس کو پیسے کی ضرورت ہے وہ بولتا ہے مجھے پیسہ دے دو زمین جو زیادہ ریٹ پر جائے گی اس میں پرافٹ کا حصہ لے لینا، کیا یہ سود تو نہیں حصہ فیصد مقرر کرنا چاہیے یا جو پرافٹ ملے جو دے دے ٹھیک ہے؟
مذکور طریقہ کے مطابق معاملہ کرنا تو درست نہیں، البتہ اگر سائل اپنے دوست سے زمین خرید کر بعد میں نفع کے ساتھ فروخت کر دے یا اسے جتنے پیسوں کی ضرورت ہے وہ پیسے اسے دیکر اس تناسب سے زمین میں شریک ہو جائے اور پھر جب زمین فروخت ہو جائے تو سائل اپنے حصہ کے تناسب سے نفع بھی وصول کرے تو شرعا یہ صورت جائز ہو گی۔
كما في سنن الترمذي: عن أبي هريرة، أن رجلا تقاضى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأغلظ له، فهم به أصحابه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «دعوه، فإن لصاحب الحق مقالا»، ثم قال: «اشتروا له بعيرا، فأعطوه إياه»، فطلبوه، فلم يجدوا إلا سنا أفضل من سنه، فقال: «اشتروه، فأعطوه إياه، فإن خيركم أحسنكم قضاء» حدثنا محمد بن بشار قال: حدثنا محمد بن جعفر قال: حدثنا شعبة، عن سلمة بن كهيل نحوه،: هذا حديث حسن صحيح اھ (3/ 600)
و في الدر المختار: القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة. (وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك (لا في غيره) اھ (5/ 161)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه اھ (7/ 395) والله أعلم بالصواب
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1