السلام علیکم!
اگر کوئی شوہر کسی مجلس میں بیٹھے اپنی بیوی سے تجدید نکاح کرنے کی غرض سے ، اسے کہے کہ میں نے ان گواہوں کی موجودگی میں تم سے نکاح کیا، کیا تمہیں قبول ہے؟لیکن بیوی نے اس بات کو سنجیدہ نہیں لیا اور کہہ دیا کہ نہیں قبول، کیا بیوی کے ایسے کہنے سے پچھلے نکاح پر تو کوئی فرق نہیں پڑے گا؟ یعنی نکاح پر دوبارہ تجدید نکاح کرنا بیوی کو نکاح میں اختیار دینے کے مترادف تو نہیں؟ جیسے کوئی اپنی بیوی سے کہے کہ میرے ساتھ رہنے میں تمہیں اختیار ہے، چاہے تو رہو، چاہے علیحد گی اختیار کر لو، کیا یہ دونوں چیزیں مساوی ہیں ؟
اگر کسی شخص نے کوئی ایسا عمل نہ کیا ہو جس کی وجہ سے اس کا نکاح ٹوٹ چکا ہو بلکہ وہ احتیا طاً دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہو، اور بیوی کے سامنے ایجاب و قبول کے الفاظ کہے لیکن بیوی اس کو قبول نہ کرے تو اس سے ان دونوں کے سابقہ نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جبکہ بیوی کو اختیار دینے کا حکم اس سے الگ ہے۔