السلام علیکم ایک غایت ضروری بات کے بارے میں معلوم کرنا ہے ، جو کہ غسل فرض ہونے کے بارے میں ہے ، سوال یہ ہے کہ مریض کے معائنہ میں اگر ڈاکٹر پوشیدہ جگہ کو چھولے یا خصیتین کے معائنہ کے لئے ان کو چھولے یا ہاتھ میں پکڑے یا ہاتھ لگائے ، تو کیا مریض یا ڈاکٹر پر غسل فرض ہو گا ۔
مریض کے معائنہ کے وقت ڈاکٹر حضرات کا مریض کے مخصوص اعضاء کو ہاتھ لگانے کی وجہ سے ڈاکٹر یا مریض پر غسل لازم نہ ہوگا، تاہم مریض کے معائنہ کے وقت ڈاکٹر حضرات کیلئے ضرورت کی حد تک ستر کو دیکھنے یا چھونے کی اجازت ہے، ضرورت سے زائد کو دیکھنا یا چھونا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما فی الھداية: و المعاني الموجبة للغسل إنزال المنی على وجه الدفق و الشهوة من الرجل و المرأة حالة النوم و اليقظة (الیٰ قوله) و التقاء الختانين من غير إنزال (الىٰ قوله) و الحيض لقوله تعالى ( حتى يطهرن ) بالتشديد و كذا النفاس للإجماع اهـ (1 /31)۔
و فى الفتاوی الھندية : منها الجنابة و هی تثبت بسببين أحدهما خروج المني على وجه الدفق و الشهوة من غير ايلاج باللمس أو النظر أو الاحتلام أو الاستمناء كذا فی محيط السرخسي (الیٰ قوله) السبب الثاني الإيلاج ( الی قوله) و منها الحيض و النفاس اھ (1/ 16)۔