نکاح

اہلِ کتاب(عیسائی) عورت سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
39403
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

اہلِ کتاب(عیسائی) عورت سے نکاح کا حکم

دین اہلِ کتاب(عیسائیت) کے ساتھ شادی کے بارے میں کیا کہتا ہے اور ہونے والی اولاد کے مذہب کے بارے میں کیا ہدایات دی گئی ہیں؟ اولاد پر کس کا زیادہ حق ہے؟باپ یا ماں کا ؟ کس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اولاد کی رہنمائی کرے مذہب کے بارے میں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی مسلمان شخص کا عیسائی لڑکی سے نکاح کرنا اگرچہ درست ہے،مگر یہ مکروہ ہے،کیوں کہ اس طرح کے نکاح کے نتیجے میں جو خرابیاں پیدا ہوں گی وہ صرف نکاح کرنے والے کی حد تک محدود نہیں ہوں گی،بلکہ اس کے برے اثرات نسلوں پر پڑیں گے،اسلئے بہتر یہ ہے کہ کسی مسلمان عورت سے نکاح اور شادی کا اہتمام کرے،تاہم اگر کسی نے اہلِ کتاب لڑکی کے ساتھ نکاح کرلیا ہو تو اس سے جو اولاد پیدا ہوگی،وہ مسلمان باپ کے تابع ہوکرمسلمان شمار ہوگی،اور اسے اسلامی تعلیمات دی جائینگی ، ماں کو اجازت نہیں کہ وہ بچے کو عیسائیت کی تعلیم دے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الفتاوی الھندیة: ويجوز للمسلم نكاح الكتابية الحربية والذمية حرة كانت أو أمة، كذا في محيط السرخسي. والأولى أن لا يفعل ولا تؤكل ذبيحتهم إلا لضرورة، كذا في فتح القدير اھ(1/281)۔
وفی الھدایة: فان کان أحد الزوجین مسلماً فالولد علیٰ دینہ وکذالک ان أسلم أحدھما ولہ ولد صغیر صار ولدہ مسلماً باسلامہ اھ(2/346)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 39403کی تصدیق کریں
0     218
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات