احکام حج

حالتِ حیض میں خواتین کے لیے میقات سے گزرے پر عمرے کی نیت کا حکم

فتوی نمبر :
39256
| تاریخ :
2020-01-28
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حالتِ حیض میں خواتین کے لیے میقات سے گزرے پر عمرے کی نیت کا حکم

عورت اگر حالت ِحیض میں ہو اور سفرعمرہ پر جانا ہو تو کیا وہ میقات سے گزرتے ہوئے محرمہ ہو گی یا نہیں ؟ اس کے لیے احرام کی نیت کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟اگر ضروری نہیں تو کیا وہ سعودیہ میں جا کر احرام کی نیت کرے گی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حائضہ عورت بھی میقات سے پہلے احرام کی نیت کر ے گی تو یہ محرمہ بن جائے گی اسپر بھی عمرہ کی نیت کر کے تلبیہ پڑھنا لازم ہے، مگر مکہ مکرمہ پہنچ کر پاک ہونے سے قبل عمرہ نہ کرے اور جب پاک ہو جائے تو طواف اور سعی کر کےاپنا عمرہ مکمل کرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع : وكذلك لو أراد بمجاوزة هذه المواقيت دخول مكة لا يجوز له أن يجاوزها إلا محرما، سواء أراد بدخول مكة النسك من الحج أو العمرة أو التجارة أو حاجة أخرى عندنا اھ (2/164)۔
و فی الہدایۃ : الأفاقى إذا إنتهى إليها على قصد دخول مكة عليه أن يحرم قصد الحج أو العمرة أو لم يقصد عندنا " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا يجاوز أحد الميقات إلا محرما " ولأن وجوب الإحرام لتعظيم هذه البقعة الشريفة فيستوي فيه الحاج والمعتمر وغيرهما ومن كان داخل الميقات له أن يدخل مكة بغير إحرام لحاجته " لأنه يكثر دخوله مكة وفي إيجاب الإحرام في كل مرة حرج بين فصار كأهل مكة حيث يباح لهم الخروج منها ثم دخولها بغير إحرام لحاجتهم اھ (1/134)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 39256کی تصدیق کریں
0     658
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات