کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ایک سے زیادہ حج وعمرہ کرنا صحیح ہے ؟ کیا دوسری بار حج عمرہ کرنے سے بہتر ہے کہ وہ رقم صدقہ کردی جائے ؟
واضح ہو کہ حجِ بیت اللہ زندگی میں فقط ایک مرتبہ ادا کرنا فرض ہے،اس کے بعد نفل جس کی صحت میں شرعاً کوئی اشکال نہیں ۔
جبکہ عام حالات میں نفلی صدقات وغیرہ کے مقابلہ میں نفلی حج کی ادائیگی افضل ہے ،البتہ اگر کوئی مستحق و فقیر اس قدر مجبور و تنگدست ہو یا وہ آلِ بیت سے ہو کہ اس کی ضرورت و حاجت پوری ہونے کا ظاہری کوئی سبب نہ ہو تو اس صورت میں اس کی ضرورت پوری کرنے کا اجر وثواب نفلی حج سے بھی بڑھ جاتا ہے ۔
کما فی الرد : واختلف فی الصدقة ورجح فی البزازية أفضلية الحج لمشقته فی المال والبدن جميعا، قال: وبه أفتى أبو حنيفة حين حج وعرف المشقة.اھ (2/611)۔
و فی الہندیة (وأما فرضيته) فالحج فريضة محكمة ثبتت فرضيتها بدلائل مقطوعة حتى يكفر جاحدها، وأن لا يجب في العمر إلا مرة كذا فی محيط السرخسي اھ(1/216)۔