دو لڑکے ایک لڑکی اپنے باپ کے قتل میں شریک ہیں،لڑکوں نے کلہاڑی سے وار کیا اور لڑکی نے گلہ دبایا،اس شخص کی بیوی یعنی لڑکوں کی ماں اس واقعہ کے وقت موجود تھی،اور اس قتل پر راضی تھی،شرعاً ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
مقتول کی جو اولاد باپ کے قتل کرنے میں ملوث تھی،اگر ان کا جرم عدالت میں ثابت ہوجائے تو قصاصاً ان کو قتل کیا جائے گا اور ایسی اولاد اپنے مقتول باپ کی میراث سے بھی محروم ہوگی، جبکہ بیوی اگر قتل میں شریک نہ ہو تو اس کو نہ کوئی سزا ہوگی،نہ وہ میراث سے محروم ہوگی۔
کما فی الفتاوی الھندیة: وموجب ذلك المأثم والقود إلا أن يعفو الأولياء، أو يصالحوا، ولا كفارة فيه عندنا كذا في الهداية ومن حكمه حرمان الميراث اھ(ج6/ص2)-
وفیه أیضاً: ويقتل الولد بالوالد والوالدة والجد، وإن علا والجدة، وإن علت من قبل الآباء، أو الأمهات كذا في فتاوى قاضي اھ(ج6/ص4)-
وفیه أیضاً: وإذا قتل جماعة واحدا عمدا تقتل الجماعة بالواحد كذا في الكافي اھ(ج6/ص5)۔
وفیه أیضاً: فإن قال ولي القتيل بعد ما قتله الأجنبي: كنت أمرته بقتله، ولا بينة له على ذلك لا يصدق كذا في المحيط اھ(ج6/ص7)۔
بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے اگر بچہ ضائع ہو گیا تو کیا خاوند پر اس کی دیت آئے گی؟
یونیکوڈ حدود و قصاص 0