السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ غسل کرتے وقت بار بار شک ہوتا ہے کہ قطرے نکل گئے ، جس کی وجہ سے پریشانی ہوتی ہے ، براہِ کرم بتا دیں کہ محض شک کی بناء پر غسل دوبارہ کریں یا پھر غسل جاری رکھیں؟
سائل کو اگر قطروں کا شک اور وہم ہوتا ہو تو اس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں ، البتہ اگر واقعۃً قطرے نکلتے ہو تو ان قطروں کو خشک کرنے کے بعد غسل اور وضو کرنا چاہیئے۔
کما فی الھندیة : (و مما يتصل بذلك مسائل الشك) في الأصل من شك في بعض وضوئه و هو أول ما شك غسل الموضع الذي شك فيه فإن وقع ذلك كثيرا لم يلتفت إليه هذا إذا كان الشك في خلال الوضوء فإن كان بعد الفراغ من الوضوء لم يلتفت إلى ذلك و من شك في الحدث فهو على وضوئه و لو كان محدثا فشك في الطهارة فهو على حدثه و لا يعمل بالتحري ، كذا في الخلاصة اھ (1/13)۔