السلام علیکم ! مفتی صاحب میں حج کے چوتھے دن کی کنکری کے بارے میں آپ سے رائے لینا چاہتا ہوں ، آجکل کافی لوگوں کو دیکھاہے جو حج پر جاتے ہیں ، اور چوتھے دن کی کنکری بھی مارتے ہیں ، اور ساتھ کہتے ہیں کہ چوتھے دن کی کنکری مارنے سے کبیرہ گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں ،کیا اس بات میں کوئی صداقت ہے ؟ برائے کرم حج کے چوتھے دن کی کنکری کے بارے میں بتائیں کہ شریعت میں اسکا کیاحکم ہے ؟اللہ آپ کو جزائے خیر عطاء کرے!
حج کے چوتھے دن کی کنکریاں مارنا مستحب ہے ، واجب نہیں، لہذا اگر کوئی شخص 12 ذی الحجہ کی رمی کے بعد منی سے واپسی کا ارادہ کرے، تو اسپر تیرھویں ذی الحجہ کی رمی لازم نہیں ، البتہ اگر کوئی شخص 12 ذی الحجہ کو رمی کرنے کے بعد منی میں رُک جائے اور رات وہیں گزارے، تو ایسے شخص پر 13 ذی الحجہ کو بھی رمی کرنا لازم ہو جائے گا ، مگر اس چوتھے دن کی رمی سے کبیرہ گناہ معاف ہونے والی بات ہماری نظرسے نہیں گزری، دوسرے اہل علم سے بھی مراجعت کی جائے ، تو بہتر ہے۔
کمافی الہندیة : فإذا كان منی لغد وهو اليوم الثالث من يوم النحر يرمي الجمار الثلاث كذلك حين تزول الشمس ثم ينفر إن أحب في يومه ذلك ويسقط عنه الرمي في اليوم الرابع، وإن أحب أن يمكث هناك تلك الليلة فمكث حتى طلع الفجر لا يمكنه أن ينفر في هذا اليوم حتى يرمي بعد الزوال كذلك كذا في فتاوى قاضي خان اھ (1/ 223)۔