مولانا صاحب میرے شوہر کے ایک دوست فوڈ کے حلال بزنس میں ہیں ، وہ ایک جگہ سے مال لیتے ہیں اور اپنا کمیشن رکھ کر آگے سپلائی کر دیتے ہیں ، اس سلسلہ میں اگر انہیں فنڈ کی ضرورت ہو تو میرے شوہر سے پانچ یا چھ فیصد نفع کے وعدہ پر لے لیتے ہیں لیکن کیونکہ ان کا کمیشن مقرر ہوتا ہے تو وہ میرے شوہر کو بھی متعین رقم کے نفع کا کہتے ہیں ، مجھے اس معاملہ سے ڈر ہوتا ہے کہ یہ سودی معاملہ تو نہیں ؟
سائلہ کے شوہر اپنے دوست کو رقم اس طور پر دیتے ہوں کہ وہ اس کو اس ایک معاملہ میں شریک ٹھہرا کر پانچ یا چھ فیصد نفع دیدیں گے تو اس طرح مضاربہ پر پیسے دیکر اس سے طے شدہ فیصد کے حساب سے نفع لینا جائز اور درست ہے، مگر نفع میں مخصوص اماؤنٹ ( مقدار ) مقرر کرنا جائز نہیں ایسا کرنے سے بلاشبہ سود کا معاملہ ہو جائیگا۔
ففي كنز الدقائق: کتاب المضاربة: هي شركة بمال من جانب وعمل من جانب والمضارب أمين وبالتصرف وكيل وبالربح شريك وبالفساد أجير وبالخلاف غاصب وباشتراط كل الربح له مستقرض وباشتراطه لرب المال مستبضع وإنما تصح بما تصح به الشركة ويكون الربح بينهما مشاعا اھ (ص: 522)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0