اگر کوئی فوجی دستہ تربیت کے لۓ چھاؤنی سے شرعی مسافت طے کرنے کے بعد ، کسی غیر آباد جگہ میں پندرہ دن سے زائد کی نیت سے رہتا ہے، اس جگہ کوئی مستقل رہائشی مکانات نہیں، وہاں سے تقریباً ایک کلومیٹر کی مسافت پر ایک گاؤں ہے ، لیکن نہ ان لوگوں کو فوجیوں کے پاس آنے کی اجازت ہے نہ ہی انہیں گاؤں والوں کے پاس جانے کی اجازت ہے ، فوجیوں نے اپنے خیموں میں قیام کرنا ہے تو ایسی صورت میں ان کی نماز کا کیا حکم ہے وہ پوری نماز پڑھیں یا قصر کرے؟
فوجی دستہ مسافتِ شرعی (۷۸کلومیٹر) یا اس سے زیادہ کی حد تک ، سفر کے ارادے سے نکلنے کے بعد اگر وہ کسی شہر یا بستی میں پندرہ دن اقامت کی نیت سے قیام نہیں کرتا ، بلکہ کسی غیر آباد علاقے (جنگل، صحرا وغیرہ) میں اقامت کی نیت کرتا ہو ، تو ایسی صورت میں اگرچہ وہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ اقامت کی نیت کرے تب بھی ان کے ذمہ قصر کرنا لازم ہوگا۔
فی الفتاوى الهندية : و لا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر ، كذا في الهداية. هذا إذا سار ثلاثة أيام أما إذا لم يسر ثلاثة أيام فعزم على الرجوع أو نوى الإقامة يصير مقيما و إن كان في المفازة و نية الإقامة إنما تؤثر بخمس شرائط : ترك السير حتى لو نوى الإقامة و هو يسير لم يصح ، و صلاحية الموضع حتى لو نوى الإقامة في بر أو بحر أو جزيرة لم يصح ، و اتحاد الموضع و المدة ، و الاستقلال بالرأي ، هكذا في معراج الدراية . قال شمس الأئمة الحلواني : عسكر المسلمين إذا قصدوا موضعا و معهم أخبيتهم و خيامهم و فساطيطهم فنزلوا مفازة في الطريق و نصبوا الأخبية و الفساطيط و عزموا فيها على إقامة خمسة عشر يوما لم يصيروا مقيمين ؛ لأنها حمولة و ليست بمساكن ، كذا في المحيط . (1/ 139)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4