کیا فرماتے ہیں علماء کرام ، مفتیان عظام اس مسئلہ کے متعلق کہ ایک باپ کے چار بیٹے ہیں جن میں سے تین برسر روزگار ہیں اور ایک زیر تعلیم ہونے کی وجہ سے بے روزگار ہے، اور گھر کا نظام مشتر ک ہے والد صاحب سمیت تمام بھائی اپنی آمدن بڑے بھائی کے پاس جمع کرواتے ہیں، گھر کے اخراجات مشترکہ آمدن سے چلتے ہیں، اس دوران ایک بھائی کی تنخواہ ایک ادارہ کے ذمہ قرض ہوگئی۔
مثلاً ایک سال کی تنخواہ تاخیر سے اکھٹی ملی اور ساتھ کچھ گھر کے مشترکہ مال میں سے بھی اسی ادارہ پر قرض تھا وہ بھی وصول ہو گیا، واضح رہے تمام بھائیوں کی تنخواہ میں کوئی خاص تفاوت نہیں تھا، بلکہ قرض خواہ بھائی کی بنسبت دوسرے دونوں بھائیوں کی آمدن اور تنخواہ زیادہ تھی ۔اب اس وصول شدہ مال (قرضہ) سے جائیداد خرید لی گئی ۔سوال یہ ہے کہ اس جائیداد کا مالک کون ہوگا؟ آیا یہ جائیداد والد صاحب کی ہوگی اور سارے بھائی حصہ دار ہونگے؟ یا والد صاحب سمیت تینوں بھائی جو برسر روزگار تھے۔ صرف وہ مالک ہونگے؟ یا خریدار بھائی اکیلا اس جائیداد کا مالک ہو گا ؟ شریعت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔
تنقیح : سائل نے یہ نہیں لکھا ہے کہ جس بھائی کی تنخواہ ایک سال کے لئے رک گئی تھی تو اس کے ذمہ کے اخراجات جب دیگر بھائیوں نے برداشت کر لئے تو اس وقت وہ اخراجات اس بھائی کے ذمہ قرض ہونے کی صراحت کی تھی یا ازراہ تبرع اس پر سال بھر خرچ کرتے رہے جواب لکھ کر بھیجنے کے بعد ان شاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کر دیا جائیگا۔
جواب تنقیح : مشترکہ سسٹم جیسے عمومی طور پر تمام بھائی آپس میں ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور یہ نہ قرض تصور کیا جاتا ہے اور نہ ہی قرض کی صراحت ہوتی ہے، بالکل بعینہ یہ صورت تھی قرض سمجھ کر خرچ نہیں کیا گیا لہذا صراحت کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
جس بھائی کی تنخواہ ایک سال کے لیے رک گئی تھی اس دوران دیگر بھائیوں نے اس کے ساتھ جو تعاون کیا ہے وہ ان بھائیوں کی طرف سے تبرع واحسان شمار ہوگا ،جس کا اب مطالبہ کرنا درست نہیں، اس لئے یک مشت ملی ہوئی رقم سے اس بھائی نے جو مکان لیا ہے وہ اس کا ذاتی شمار ہو گا دیگر بھائیوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں، جبکہ گھر کے مشترکہ مال میں سے جو قرض مذکور ادارے نے واپس لوٹایا ہے وہ سب بھائیوں میں مشترک تصور ہو گا جس میں سب بھائی حصہ دار ہونگے۔
ففي العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: مات رجل وترك أولادا صغارا وكبارا وامرأة والكبار منها أو من غيرها فحرث الكبار وزرعوا في أرض مشتركة أو في أرض الغير كما هو المعتاد والأولاد كلهم في عيال المرأة تتعاهدهم وهم يزرعون ويجمعون الغلات في بيت واحد وينفقون من ذلك جملة صارت هذه واقعة الفتوى واتفقت الأجوبة أنهم إن زرعوا من بذر مشترك بينهم بإذن الباقين لو كبارا أو إذن الوصي لو صغارا فالغلة مشتركة، وإن من بذر أنفسهم أو بذر مشترك بلا إذن فالغلة للزراعين. اهـ. (2/ 189)
في الدر المختا: (والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم، فقبل ذلك لا يلزم شيء (3/ 594)
و في شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي : المادة ٨٢٥: كل من الراهن والمرتهن إذ صرف على الرهن ما ليس عليه بدون إذن الآخر يكون متبرعاً وليس له أن يطالب الآخر بما صرفه كما إذا قضى دين غيره بغير أمره إلا أن يامرة القاضي به ويجعله ديناً على الآخر فحينئذ يرجع على الآخر اھ ( ۳/ ١٦٧) والله أعلم بالصواب
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0