کیا ایک بار دودھ پینے سے رشتہ حرام ہو جاتا ہے ؟ اگر ایک لڑکا کسی عورت کا دودھ ایک بار پیتا ہے اور منہ نہیں ہٹاتا تو اب اس کی بیٹی سے شادی نہیں کر سکتا ؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
اگر کوئی بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے ، چاہے ایک ہی بار پی لے، اس سے حرمتِ رضاعت ثابت ہو جاتی ہے، ایسے لڑکے کا نکاح اس کی رضاعی ماں کی کسی بیٹی (رضاعی بہن)سے شرعاً جائز نہیں۔
کما في الفتاوى الهندية: قليل الرضاع وكثيره اذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية۔اھ (1/ 342)
وفي الدر المختار: (ولا) حل ( بين الرضيعة وولد مرضعتها ) أى التي أرضعتها (وفي رد المحتار تحت) (قوله وولد مرضعتها) أي من النسب، أما الذي من الرضاع فإنه وإن كان كذلك۔اھ (3/ 217)
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0