(+92) 0317 1118263

متفرقات

سورۃ فاتحہ کے مکمل ہونے پر آمین کہنا

سورۃ فاتحہ کے مکمل ہونے پر آمین کہنا فتوی نمبر: 33542

الاستفتاء

محترم مفتی صاحب!نماز سے باہر قرآنِ مجید کی تلاوت کرتےوقت سورۃ الفاتحہ کو ختم کرلینےکے بعد اور سورۃ البقرة کو شروع کرنے سے پہلے کیا ’’آمین‘‘ کہنا ہے یا پھر نہیں؟ اور اگر نماز کے باہر سورۃ الفاتحہ کو وظیفے کے طور پر بار بار پڑھا جائے تو پھر ایسی صورت میں سورۃ الفاتحہ کو ہر مرتبہ ختم کرنے پر کیا ’’آمین‘‘ کہنا ہے یا پھر سورۃ الفاتحہ کے وظیفے کے طور پر پورا مکمل کرنے پر ختم کرنے کے بعد ایک مرتبہ آمین کہنا ہے؟ برائے مہربانی مجھے جواب دے کر مشکور ہو۔

الجواب حامدا و مصلیا

نماز سے باہر سورۂ فاتحہ کو چاہے قراءت کی نیت سے پڑھا جائے یا وظیفے کی نیت سے ، بہر دو صورت سورۂ فاتحہ کے ختم پر آمین کہنا لازم نہیں، البتہ یہ سورت قرآن کریم کی جامع دعاؤں میں سے ہے اس لیے اس کے اختتام یا وظیفے کے ختم پر آمین کہنا بہتر ہے۔


فی تفسیر روح المعانی للعلامۃ الآلوسی: ویسن بعد الختام أن یقول القاریٔ (آمین) (الی قولہ) ولیست من القرآن إجماعا، ولذا سن الفصل بینہا وبین السورۃ بسکتۃ لطیفۃ وما قیل: إنہا من السورۃ عند مجاہد فمما لا ینبغی أن یلتفت إلیہ إذ ہو فی غایۃ البطلان (الی قولہ) ان آمین من القرآن کفر۔ الخ (ج۱، ص۹۷) واللہ اعلم