جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ایک حج تقریباً بیس سال کی عمر میں سن 1986 میں کیا ، اس وقت وہ صاحبِ نصاب نہیں تھے ، یہ حج اس کے والد گرامی نے انکو کروایاتھا جو کہ سعودی عرب میں ہی مقیم تھے ، اور زید عمرہ کے ویزے پر وہاں گیا تھا ، اور وہاں رک کر حج کر کے واپس آئے ، اب 2018 میں جبکہ وہ صاحبِ نصاب ہیں تو کیا ان پر حج کرنا فرض ہے یا 1986 والا حج ہی کافی ہے ؟ جو انکے والد نے کرایا تھا ، اب وہ دوبارہ حج کسی اور کی طرف سے اپنے ذاتی پیسوں سے کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ جناب مفتی صاحب !قرآن و حدیث کی روشنی ميں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں ۔
شخص مذکور نے بیس سال کی عمر میں اگرچہ والد صاحب کے خرچےپرفریضۂ حج کی ادائیگی کر دی تھی مگر اس سے اسکا فریضۂ حج ادا ہو چکا ہے، اب مالدار ہونے کے بعد اس کے ذمہ دوبارہ حج کی ادائیگی لازم نہیں، اور اپنی ذاتی رقم سے کسی دوسرے شخص کی طرف سے حج کرنا درست نہیں ، البتہ نفلی حج کر کے اسکا ثواب وہ دوسرے لوگوں تک پہنچا سکتا ہے ۔
کما فی الہندیة: الفقير إذا حج ماشيا ثم أيسر لا حج عليه هكذا في فتاوى قاضي خان اھ (1/217)۔
وفی الشامیۃتحت قول : (قوله للآفاقي)۔۔۔۔في اللباب: الفقير الآفاقي إذا وصل إلى ميقات فهو كالمكي قال شارحه أي حيث لا يشترط في حقه إلا الزاد والراحلة إن لم يكن عاجزا عن المشي، وينبغي أن يكون الغني الآفاقي كذلك إذا عدم الركوب بعد وصوله إلى أحد المواقيت فالتقييد بالفقير لظهور عجزه عن المركب، وليفيد أنه يتعين عليه أن لا ينوي نفلا على زعم أنه لا يجب عليه لفقره لأنه ما كان واجبا وهو آفاقي فلما صار كالمكي وجب عليه اھ (2/460)۔