۱:کاروباری شرکت میں کیا ہم نفع اور نقصان کی مختلف شرح متعین کرسکتے ہیں ؟مثلاً یہ کہ شریک الف نفع کی صورت میں %20 کا حقدار ہوگا، جبکہ نقصان کی صورت میں وہ اپنے سرمایہ کے بقدر 10% میں شریک ہوگا؟
۲: کاروباری شرکت میں منافع کی شرح مقرر کرنے کے بعد جیسے 10 فیصد منافع , کیا ہم کسی ایک شریک کے لئے کوئی مجوّزہ رقم متعین کر سکتے ہیں ؟ جیسے کہ شریک الف% 20 منافع کا حقدار ہوگا ،لیکن 10,000 کے اندر اندر ، 10,000 سے زیادہ جتنا بھی ہوگا وہ شریک ب کا ہوگا۔
۳:کاروباری شرکت میں پہلی مرتبہ کاروبار میں سرمایہ ڈالنے کے بعد کیا اس طرح معاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ منافع کی شرح ہر سال کے شروع میں کاروبار کی موجودہ حالت کے موافق متعین ہوگی ۔ مثلاً کاروبار کے شروع میں ہر ایک نے 10,000 لگا دیے اور معاہدہ یہ ہوا کہ پہلے سال وہ 50/50 فیصد کے بقدر (منافع میں) شریک ہونگے۔ پھر اگلے سال کے شروع میں وہ یہ معاہدہ کریں کہ وہ 40 کے بقدر منافع میں شریک ہونگے۔
۱:کاروباری پارٹنرز کاروبار میں ہونے والے نفع کے لئے باہمی رضامندی سے کوئی بھی فیصدی تناسب مقرر کر سکتے ہیں، بشرطیکہ غیر عامل شریک (Sleeping partner)کے لئے منافع میں اس کے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ حصہ مقرر نہ کیا جائے ۔ جبکہ نقصان کی صورت میں شرکاء اپنے سرمایہ کے بقدر ذمہ دار ہونگے۔
۲: منافع کی شرح متعیّن کرنے کے بعد شرکاء میں سے ایک شریک کے لیے مزید کچھ رقم مقرر کرنا جائز نہیں،بلکہ اس کا درست اور جائز طریقہ یہ ہے کہ جس شریک کو نفع دینا ہو تو ابتداء سے ہی اس کا فیصدی حصہ کچھ زیادہ مقرر کیا جائے۔
۳:منافع کی تقسیم کے لئے ہر سال الگ الگ شرح مقرر کرنا بھی درست ہے ،بشرطیکہ فریقین کے درمیان مقرّر شده تناسب میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔
کما في حاشية ابن عابدين: فما كان من ربح فهو بينهما على قدر رءوس أموالهما، وما كان من وضيعة أو تبعة فكذلك، ولا خلاف أن اشتراط الوضيعة بخلاف قدر رأس المال باطل واشتراط الربح متفاوتا عندنا صحيح فيما سيذكر، فإن اشترطا التفاوت فيه كتباه كذلك، ويكتب التاريخ كي لا يدعي أحدهما لنفسه حقا فيما اشتراه الآخر قبل التاريخ فتح اھ (4/ 305)۔
و في الفتاوى الهندية: اشتركا فجاء أحدهما بألف والآخر بألفين على أن الربح والوضيعة نصفان فالعقد جائز والشرط في حق الوضيعة باطل فإن عملا وربحا فالربح على ما شرطا وإن خسرا فالخسران على قدر رأس مالهما كذا في محيط السرخسي اھ (2/ 320)۔
و فيها ايضا: وأن يكون الربح معلوم القدر فإن كان مجهولا تفسد الشركة وأن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة كذا في البدائع (2/ 302)۔
و في بدائع الصنائع: وإن شرطا العمل على أحدهما فإن شرطاه على الذي شرطا له فضل الربح جاز والربح بينهما على الشرط فيستحق ربح رأس ماله بماله والفضل بعمله وإن شرطاه على أقلهما ربحا لم يجز لأن الذي شرطا له الزيادة ليس له في الزيادة مال ولا عمل ولا ضمان اھ (6/ 63)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0